وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں ملنی چاہئیں، ان کے اعضاء کاٹ کر نامرد بنا دینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی سرجری کر دیں تاکہ وہ کچھ کر ہی نہ سکیں، زیادتی کے ملزموں کو نامرد بنا دینا چاہیے۔
وزیراعظم نے معید پیرزادہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مجرموں کو چوکوں میں لٹکایا جانا چاہیے۔
کورونا سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وبا کی صورتحال سے نکل گئے ہیں، پوری دنیا ہماری تعریف کر رہی ہے تاہم سردیوں میں اس کی ایک اور لہر آ سکتی ہے۔
عثمان بزدار کے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کرپٹ نہیں ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کی صرف ایک کمزوری ہے کہ وہ میڈیا کا سامنا نہیں کر سکتے اور اپنی پبلسٹی پر اربوں روپے خرچ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے انہیں نقصان ہوتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف جب پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تھے تو وہ بھی پریس کانفرنس نہیں کر سکتے تھے، اس خامی کا تدارک کرنے کے لیے انہوں نے لفافہ صحافت شروع کر دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ میں عثمان بزدار سے یہ چاہتا ہوں کہ ہم نے نچلے طبقے اور علاقوں کو اوپر اٹھانے کے لیے جو پراجیکٹ شروع کیے ہیں انہیں جاری رکھیں اور جب ان کا دور حکومت ختم ہو تو پنجاب میں غربت کم ہو چکی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازیخان پنجاب کا سب سے غریب ضلع ہے، وہاں رقم خرچ کرنا بہت ضروری ہے، ہم بلوچستان میں بھی پیسہ خرچ کر رہے ہیں تاکہ پسماندہ اور غریب علاقوں میں بہتری لائے جا سکے۔
گزشتہ دو سال کی کارکردگی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جب وہ حکومت میں آئے تو خزانہ خالی تھا اور بہت زیادہ قرضہ چڑھا ہوا تھا، ہماری پہلی ترجیح ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا تھا جس میں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ 2 سال بہت مشکل تھے، ہم نے پہلے دوست ممالک سے رقم لے کر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کی۔
عمران خان نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں دیر کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں دباؤ جھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہوں، اگر میں اپوزیشن کے دباؤ میں آ جاتا تو آج ہمارا ہندوستان سے بھی برا حال ہوتا کیونکہ ہمارے معاشی حالات بھارت کی نسبت بہت کمزور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن، میڈیا، دانشوروں اور چند ڈاکٹرز نے میرے خلاف جس طرح سے منظم مہم چلائی اور اگر میں ان کے دباؤ میں آجاتا ہماری معیشت بھی بیٹھ جاتی، ہم وائرس پر بھی قابو نہیں پا رہے ہوتے اور لوگ کورونا سے مر رہے ہوتے۔