لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ نے دلہا بننے والے عالی آکاش کو بادی النظر میں لڑکی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ علی آکاش عرف عاصمہ کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور ملزمہ کا نام ای سی ایل میں شامل کر کے شناختی کارڈ بلاک کیا جائے۔
عدالت نے مبینہ دلہن کو لاہور کی این جی او کے حوالے کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔
یاد رہے کہ ٹیکسلا میں لڑکی کی لڑکی سے شادی کی خبر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پولیس حرکت میں آئی تھی اور دلہن کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
دلہا علی آکاش عرف عاصمہ بعد میں گرفتار ہوا جس کے بعد اس نے دلہن کو طلاق دے دی تھی۔