لاہور: موٹروے پر خاتون سے زیادتی کرنے والے مرکزی ملزمان کا تیسرا مبینہ ساتھی بالا مستری بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شفقت، عابد اور بالا مستری مل کر وارداتیں کیا کرتے تھے، تینوں ملزمان نے اب تک 11 وارداتیں کیں۔
بالا مستری نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ وہ کرول گاؤں کے قریب سڑک پر درخت کے تنے رکھ کر گاڑیوں کی آمدورفت روک لیتے تھے اور پھر لوٹ مار شروع کر دیتے تھے۔
اس نے بتایا کہ وہ بھی شفقت اور عابد کے ساتھ لوٹ مار کے لیے نکلا تھا لیکن راستے میں ہی لوٹ گیا۔
اس کیس کا مرکزی ملزم عابد ابھی تک پولیس کی حراست میں نہیں آیا، اس کی تلاش میں مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجرپورہ میں موٹروے پر ایک خاتون کی گاڑی پٹرول ختم ہونے کے باعث بند ہو گئی اور دو افراد نے گاڑی کے شیشے توڑ کر خاتون کے اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے پاس درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون گاڑی روک کر اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی، خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر انہیں جواب دیا گیا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر موجود نہیں ہے۔
اس دوران دو افراد گاڑی کے پاس پہنچے اور انہوں نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور بچوں پر تشدد کیا اور پھر انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے گئے جہاں زیادتی کے بعد خاتون سے طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔