بھارتی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود چینی فوج لداخ کی سرحد پر تیزی سے آپٹیکل فائبر بچھانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے چینی فوج کو ان بلند پہاڑی علاقوں میں بہتر مواصلاتی نظام مل جائے گا جس سے مغربی ہمالیہ میں فوجی توازن کسی حد تک چین کے حق میں چلا جائے گا۔
عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس مواصلاتی نظام کی بدولت چین کے آگے موجود فوجی دستوں کے لیے اپنے بیس سے بہتر رابطہ میسر ہو جائے گا۔
پینگانگ جھیل کے جنوب میں آپٹیکل فائبر کی تاریں دیکھی گئی ہیں۔
ایک اور سینئر بھارتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے باوجود علاقے سے کسی قسم کا انخلا شروع نہیں ہوا اور نہ ہی اضافی کمک پہنچائی گئی ہے۔ حالات ابھی تک کشیدہ ہیں، ان میں کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔
اس وقت لداخ کے مرکزی شہر لیہہ میں صبح سے بھارتی لڑاکا طیارے اڑ رہے ہیں جن کی گھن گھرج سے وادی گونج رہی ہے۔
بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ چین خطرناک تیزرفتاری کے ساتھ جنوبی کنارے پر آپٹیکل فائبر بچھا رہا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے پینگونگ تسو جھیل کے شمالی کنارے پر گزشتہ ماہ ایسی تاروں کو دیکھا تھا۔
انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کیبلز کا مشاہدہ سیٹلائٹ کے ذریعے سامنے آنے والی تصاویر سے کیا گیا تھا، غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تصدیق کی تھی کہ یہ خندقوں میں بچھائی جانے والی مواصلاتی تاریں ہیں۔
اسی طرح کی کیبلز سپینگ گور کے علاقے میں بھی دیکھی گئی ہیں جہاں گزشتہ ہفتے 45 برس بعد فائرنگ ہوئی تھی۔
ایک اور بھارتی اہلکار کے مطابق ریڈیو پر ہونے والی بات چیت کو مخالف فوج سن سکتی ہے لیکن آپٹیکل فائبر رابطے کا محفوظ ذریعہ ہے، اس کے ذریعے تصاویر اور ڈیٹا بھی شیئر کیا جا سکتا ہے۔
بھارت اور چین کے درمیان ساڑھے 3 ہزار کلومیٹر کی متنازع اور غیرمتعین سرحد کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کہا جاتا ہے اور یہ شمال میں لداخ ریجن سے بھارتی ریاست اروناچل پردیش تک پھیلی ہوئی ہے۔
اس علاقے میں چین اور بھارت کی افواج کے درمیان کئی مرتبہ جھڑپیں ہو چکی ہیں جبکہ اب تک ہونے والے مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔