موٹروے خاتون زیادتی کیس میں وقارالحسن کی نشاندہی پر گرفتار ہونے والے ملزم شفقت علی نے اعتراف جرم کر لیا ہے، ملزم کو پولیس نے گزشتہ روز دیپالپور سے گرفتار کیا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ کہ ملزم شفقت کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا ہے، اسے ایک روز قبل پولیس نے حراست میں لیا تھا۔
دوران تفتیش ملزم وقار الحسن نے شفقت کے بارے میں معلومات دی تھیں۔ ملزم وقار الحسن نے خود کو سی آئی اے پولیس کے حوالے کیا تھا۔
وقار الحسن نے پولیس کو بتایا کہ ملزم عابد کچھ عرصہ سے شفقت نامی شخص کے ساتھ مل کر وارداتیں کرتا رہا ہے، وہ بہاولنگر کا رہائشی ہے اور عابد علی کا دوست ہے۔
دوسری جانب موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم تاحال گرفتار نہ ہو سکا۔ پولیس نے عابد کے بہنوئی اور مزید رشتہ داروں کو بھی حراست میں لے لیا۔ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپے جاری ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق وقار الحسن ابتدائی تحقیقات میں واقعے میں ملوث نہیں پایا گیا، ملزم کا ڈی این اے بھی میچ نہیں ہوا، تاہم ملزم کی جائے واردات پر موجود ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق ہونا باقی ہے۔
شفقت کا والد اللہ دتہ بھی پولیس کی حراست میں ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل سم اللہ دتہ کے نام پرہے جو بیٹا استعمال کررہاتھا،شفقت کو گرفتار کرکے آج ڈی این اے کرایاگیا، رپورٹ آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
شفقت کی گرفتاری کے بعد کیس کے مرکزی ملزم عابد پر بھی گھیراتنگ ہوگیا ہے اور پولیس عابدکی تلاش میں جگہ جگہ چھاپےمار رہی ہے جبکہ عابد کے والداوردوبھائیوں سےتفتیش جاری ہے۔