پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی کے شوہر اور ایڈیشنل سیشن جج کے درمیان جھگڑے کی بازگشت اسلام آباد ہائیکورٹ تک پہنچ گئی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریڈ زون میں فائرنگ کرنے پر جہانگیر اعوان کے متعلق برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں معطل کر دیا ہے۔
ایک مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ نے دیکھا کل کیا ہوا ہے؟ ایک شخص ریڈ زون میں فائرنگ کر رہا ہے، اس کی وجہ چاہے کچھ بھی ہو لیکن یہ کیسے ممکن ہوا؟
انہوں نے استفسار کیا کہ یہ تمام بڑے لوگ سمجھوتہ کیوں کر لیتے ہیں؟ مہذب معاشروں میں اس طرح کے سمجھوتوں کے متعلق کبھی نہیں سنا۔
انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ شہر میں لاقانونیت ہے، ریاست کی رٹ نظر آنی چاہیے اور ریاست کو ذمہ داری لینی چاہیے۔
دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے جہانگیر اعوان کی درخواست پر تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او کو بدھ تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ایک پٹرول پمپ پر رکن پنجاب اسمبلی عابدہ راجہ کے شوہر چوہدری خرم اور ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان کے درمیان تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہو گیا تھا۔
جہانگیر اعوان کو اس واقعہ میں چوٹیں آئیں جبکہ جھگڑے کے دوران انہوں نے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کی۔
یہ پٹرول پمپ ریڈ زون میں واقع ہے جس کی وجہ سے چیف جسٹس نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے جہانگیر اعوان کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا ہے۔