چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ جب تک ججز آزاد، خودمختار اور بیرونی دباؤ سے بالاتر نہیں ہوں گے تب تک انصاف ممکن نہیں ہو سکتا۔
نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کے تحت عدلیہ کی آزادی کسی کو دبانے کی اجازت نہیں، ہر جج نے اپنے عہدے کا حلف لیا ہوتا ہے جس کے باعث وہ انصاف کرنے کا پابند ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جج ہونا صرف اعزاز نہیں بلکہ انصاف دینے کی بھاری ذمہ داری ہے، آئین کا دیباچہ عدلیہ کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ آئین کی بالادستی کیلئے سپریم کورٹ ہر ممکن اقدام کرے گی۔
کورونا وبا کے دوران وکلا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں انہوں نے انتہائی ہمت اور جرات سے فرائض انجام دیے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کورونا وائرس کے دوران عدالت نے پیشہ ورانہ روایت برقرار رکھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فراہمی انصاف ہر مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، انصاف صرف حقوق کا تعین کرنے کا نام نہیں بلکہ مساوات قائم کرنے کا نام ہے، قانون کی نظر میں عوام کے حقوق جنس, مذہب اور نسل سے بالاتر ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نظام انصاف میں ہمیں جس مقام پر ہونا چاہئے اس کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ کیسز ختم ہونے میں تاخیر کا سبب مؤخر کرنا ہے اور اس کی ایک وجہ اسلام آباد کی عدالتوں میں وکلا کا اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر نہ پہنچنا ہے۔
مقدمات کی تفصیل بتاتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ عدالتی سال کے شروع میں عدالت میں 42 ہزار 138 مقدمات زیر التوا تھے اور کووِڈ 19 کی وبا سے قبل مزید 8 ہزار 817 نئے کیسز داخل کیے گئے جبکہ 6 ہزار 752 کیسز میں فیصلہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کووِڈ 19 کی وبا کے بعد 7 ہزار 46 کیسز دائر کیے گئے جبکہ 5 ہزار 792 کیسز کا فیصلہ ہوا اور عدالتی سال کے اختتام پر 45 ہزار 455 زیر التوا کیسز موجود ہیں۔
مزید تفصیل بتاتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ یکم ستمبر 2019 سے 29 فروری 2020 کے دوران 153 عدالتی دنوں میں 173 ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس نے قتل اور منشیات کے 21 ہزار 553 کیسز کا فیصلہ سنایا جبکہ ماڈل ٹرائم مجسٹریٹ کورٹس نے 61 ہزار 795 اور ماڈل سول ایپیلٹ کورٹس نے 33 ہزار 502 مقدمات کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 44 ماڈل کورٹس نے 153 دنوں میں کل ایک لاکھ 16 ہزار 85 کیسز کا فیصلہ کیا جبکہ کورونا وبا کے بعد یکم مارچ سے 11 ستمبر کے دوران 154 دنوں میں ماڈل کورٹس 16 ہزار 487 کیسز کا فیصلہ کرسکیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے نئے سال کی عدالتی پالسی کا اعلان بھی کیا۔
عابد ساقی اور جسٹس عیسیٰ کی نظرثانی درخواست
وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184/3 کی براہ راست سماعت کے باعث سائل کے پاس اپیل کا حق نہیں ہوتا، اس لیے عدالت کو اس اختیار کے تحت فیصلہ کرنے میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ججز کے تقرر میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں تنہا چیف جسٹس کو اختیار مل گیا ہے، اس حوالے سے توازن قائم رکھنا ضروری ہے، افسوسناک بات ہے کہ اس عمل میں مقننہ کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔۔
عابد ساقی کا کہنا تھا کہ بار کونسلز کے نمائندوں کی جوڈیشل کمیشن میں شرکت رسمی ہی رہ گئی ہے، عدالتوں کو عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدالت نے اب تک قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بار اور قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی درخواست مقرر نہیں کی۔
وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے کہا کہ وکلا برداری کو اس کیس کے حوالے سے بہت تشویش ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ کیس کو جلد مقرر کیا جائے۔
انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی سزا کے حوالے سے اپیل کو بھی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست کی۔
سید قلب حسن کی نوجوان وکلاء کے متعلق درخواست
صدر سپریم کورٹ بار سید قلب حسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس مقبول باقر کے فیصلے نے نیب اور حکومت کی زیادتیوں کی درست عکاسی کی ہے، وکلا برداری سمجھتی ہے کہ عدلیہ کا یہی کردار ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان وکلا ججز کے ابتدائی ریمارکس سے غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں اور اس رویے کی وجہ سے اپنا موقف درست انداز میں پیش نہیں کر سکتے۔
انہوں نے درخواست کی کہ عدالت نوجوان وکلا سے شفقت اور تحمل سے پیش آئے۔
اٹارنی جنرل کا وائٹ کالر کرائمز کرنے والوں کو سزا دینے پر زور
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ نئے عدالتی سال میں ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا، نظام انصاف میں موجود خامیوں کے باعث وائٹ کالر کرائم کا ارتکاب کرنے والے بچ نکلتے ہیں۔
انہوں نے انصاف میں تاخیر کو بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے افرادی قوت کی ضرورت ہے، قانونی اور انتظامی اصلاحات کی بھی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ ان تمام معاملات کو عدالتی پالیسی ساز کمیٹی میں فوری اٹھائیں۔ انصاف کی فراہمی کا عمل آزاد اور خود مختار میڈیا کے بغیر نامکمل رہتا ہے۔
اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ معیاری انصاف کی فراہمی معیاری بینچ اور بار کی مرہون منت ہے، بینچ کا سب سے بڑا انحصار بار پر ہوتا ہے۔