معروف اینکر معید پیرزادہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان موٹروے پر خاتون سے زیادتی کرنے والے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی حمایت کرتے ہیں۔
اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے یہ بات ان سے خصوصی انٹرویو کے دوران کہی ہے۔
ان کی اس ٹویٹ پر سرعام پھانسی دینے کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں نے شدت سے اپنی رائے کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔
اس واقعہ کے بعد یہ سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہو گئی تھی کہ اجتماعی زیادتی کے مجرموں کے لیے سرعام پھانسی دی جانے چاہیے یا نہیں۔ن
ایک طبقے کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے خوف پیدا ہو گا جو مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کر سکے گا جبکہ دوسری رائے اس کے برخلاف تھی۔
سرعام پھانسی کے خلاف بات کرنے والوں کی دلیل یہ تھی کہ اس سے حکومت عوام میں خوف پھیلا کر آمریت کی جانب سفر شروع کر دے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ انسانی جبلت اور سماجی نوعیت کا مسئلہ ہے جو سخت ترین سزاؤں اور سرعام پھانسیوں سے ختم نہیں ہو سکے گا۔
معید پیرزادہ کی ٹویٹ کے جواب میں دونوں آرا سامنے آئی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے لبرلز کو ہدف تنقید بنایا ہے جبکہ کئی افراد نے وزیراعظم پر تنقید کی ہے۔