پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں اسمبلیوں سے استعفوں کے لیے کمیٹی کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے بلائی گئی اے پی سی کے بعد پہلی بار نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان رابطہ ہوا ہے، اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیاں ملکی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کی تحریک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت میں اے پی سی کے بعد کی صورتحال اور اپوزیشن کی تحریک کے ایکشن پلان پر بھی مشاورت کی گئی۔
اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے نئے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی سربراہی پر بھی مشاورت ہوئی۔ اسمبلیوں سے استعفوں کے لیے کمیٹی کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) میں حکومت کو استعفیٰ دینے اور نئے انتخابات کرانے کے لیے جنوری 2021 تک کا وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اے پی سی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اے پی سی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اپوزیشن کا اتحاد تشکیل دیا گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت نے ریکارڈ توڑ مہنگائی سے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ اکتوبر میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی جانب سے احتجاج اور عوامی ریلیاں نکالی جائیں گی۔