پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارٹی رہنماؤں پر مسلح افواج اور ایجنسیوں سے ملاقات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
نواز شریف کی ہدایت پر احسن اقبال نے عسکری قیادت سے ملاقات نہ کرنے کا سرکلر جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص یا وفد عسکری قیادت سے ملاقات نہیں کرے گا۔
ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ قومی مفاد اور آئین میں رہتے ہوئے ضرورت ہوئی تو پارٹی قائد سے اجازت لے کر ملاقات ہو سکے گی۔
سرکلر کے مطابق علیحدگی میں ملاقات کرنے پر قیاس آرائیاں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جسے روکنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔
ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارا ایجنڈا قومی مفاد ہے، نواز شریف کی اے پی سی کی تقریر کو پذیرائی ملی۔
آرمی چیف کی سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اندرونی کہانی
نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی، مریم نواز
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ن لیگی رہنما محمد زبیر کی آرمی چیف سے 2 ملاقاتوں کی تصدیق کر دی
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کارکنوں اور رہنماؤں کو بھی اسی بیانیہ کو لے کر چلنا ہوگا کیونکہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہمیں اپنے بیانیہ پر عمل پیرا ہو کر ہی کامیابی ملے گی۔

یاد رہے کہ پاک فوج کے سربراہ نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے گفتگو کے لیے مختلف جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو مدعو کیا تھا۔
اس ملاقات کی خبر باہر آنے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں پر تنقید شروع ہو گئی تھی، اس دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے مسلم لیگ کے رہنماء محمد زبیر کی آرمی چیف سے دو ملاقاتوں کی تصدیق کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان ملاقاتوں میں نوازشریف اور مریم نواز کا ذکر ہوا تھا اور آرمی چیف نے محمد زبیر کو واضح انداز میں کہا تھا کہ قانونی مسائل عدالتوں اور سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں حل ہوں گے۔۔
اسے قبل یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے آج کہا تھا کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ عسکری قیادت کی جانب سے گلگت بلتستان کے مسائل پر بلایا گیا تھا لیکن یہ معاملہ سیاسی ہے، اسے پارلیمنٹ میں طے ہونے چاہیئیں۔