• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

چینی، گندم کی قیمتوں میں اضافہ، ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے وجوہات بتا دیں

by sohail
ستمبر 29, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

قومی اسمبلی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس میں شوگر اور گندم اسیکنڈل پر تفصیلی بحث ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی راؤ اجمل نے کہا کہ ہم نے حلف لیا تھا کہ کسان کی بات کریں گے۔

شوگر اور گندم اسکینڈل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب ہم اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو وہ ہم سے بھی سوال کرتے ہیں۔

 اجلاس میں ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء سے شوگر اور گندم اسکینڈل پر کی جانے والی انکوائری پر مختصر بریفنگ لی گئی۔

واجد ضیاء نے کہا کہ انکوائری رپورٹس سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہیں اور میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آ چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ان سے بریفنگ بھی لی جا سکتی ہے اور ارکان اسمبلی کے سوالات کے جوابات بھی دینے کے لیے وہ موجود ہیں۔ اس پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پہلے مختصر بریفنگ لی جائے اور اس کے بعد سوالات و جوابات کا سیشن رکھا جائے گا۔

واجد ضیا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گندم کی انکوائری پر کام کیا گیا ہے، رپورٹ کی بنیاد پر مزید چیزوں کو کھنگالنے کا کہا گیا۔

انہوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گندم کی خریداری میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں بہت تبادلے ہو چکے ہیں، 4 سیکرٹری تبدیل کیے گئے، سیکرٹریز نے آگے افسران کے تبادلے کیے۔

انہوں نے کہا کہ جو اسٹاک بتایا گیا تھا وہ کہیں کم تھا۔ فلور ملز کو جو گندم ملتی ہے اس میں بہت گھپلے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم نے کہا تھا کہ تمام فلور ملز کا آڈٹ ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلور ملز کو گندم کا کوٹہ آبادی کے حساب سے دیا جائے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت 20 فیصد گندم خرید کرتی ہے جبکہ بڑی مقدار میں کسان اپنے پاس گندم رکھ لیتے ہیں مگر اس کا اندازہ نہیں ہوتا کہ کسان نے اپنے پاس کتنی گندم رکھی ہے۔ سرمایہ کار اور مڈل مین بھی گندم ذخیرہ کر تے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پبلک سیکٹر میں 5 لاکھ ٹن گندم ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی تھی جس میں ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم ایکسپورٹ ہوئی۔ پرائیویٹ سیکٹر نے اس کے علاوہ ایکسپورٹ کی ہے۔

گنے کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس بات کا ٹھیک سے اندازہ نہیں کہ گنے کی کاشت کتنے رقبہ پر ہوتی ہے اور شوگر کین پروڈکشن کتنی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کسان کا جتنا خرچ آتا ہے سپورٹ پرائس اس سے کم ملتی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ کسانوں کو مناسب ریٹ بھی ملے اور کٹوتی بھی نہ ہو۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ شوگر ملز نے کچھ دیر کے لیے ملز میں خریداری بند کر دی تھی تاکہ کسانوں کو کم ریٹ پر خریداری کے لیے مجبور کیا جا سکے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچھ بے نامی سٹاک ملے تھے۔ ذخیرہ اندوزی بھی قیمتیں بڑھنے کا ایک سبب ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ بینکوں کوگروی رکھا گیا اسٹاک بھی پورا نہیں تھا۔ بہت زیادہ بے نامی ٹرانزیکشنز ملیں۔ شوگر ملز کی کیپسٹی میں غیر قانونی طور پر اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ نئی شوگر ملز لگ گئی ہیں۔

ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی تھی کہ کسانوں کو براہ راست ادائیگی کی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

ارکان کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ گندم اور شوگر انکوائری میں ذمہ داران پر ذمہ داری عائد کیوں نہیں کی گئی؟ کمیٹی کو بتا یاگیا کہ گندم انکوائری میں ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ گندم انکوائری کے ٹی او آرز میں ذمہ داری کا تعین کرنا تھا جبکہ شوگر انکوائری کے ٹی او آرز میں حقائق معلوم کرنا تھا۔

چیئرمین کمیٹی راؤ اجمل نے کہا کہ شوگر کمیشن بنانے کا مقصد یہ تھا کہ 2018ء میں چینی کی قیمت 55 روپے، 2020ء میں 80 روپے ہو گئی تھی اور اب 100 روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے مگر چینی کی قیمتوں میں کمی کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے اپنی بات پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ادارے کٹہروں میں کھڑے ہو گئے مگر 4 ماہ کے بعد بھی چینی کی قیمت کم نہیں ہوئی۔ دنیا بھر میں فوڈ منسٹری وفاق کا حصہ ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں یہ صوبوں کو منتقل ہو گئی ہے۔

چیئرمین کمیٹی راؤ اجمل نے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے ٹیوٹر ہیں کسی دن حاضر ہو کر کچھ سمجھنے کی کوشش کریں گے اور کچھ بتانے کی بھی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چینی 100 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ پی ایس ایم اے کے مطابق 80 روپے فی کلو ہے۔ کمیشن کے مطابق چینی کی قیمت 63 روپے فی کلو گرام ہونی چاہئے۔ یہ اب شوگر اسیکنڈل نہیں لوگوں کا اسکینڈل بن گیا ہے۔ اسکینڈل پر اسکینڈل آ رہا ہے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی ہے۔

راؤ اجمل نے کہا کہ اس سال 30 فیصد کم کرشنگ ہوئی ہے۔ کین کمیشن کسانوں کو مکمل ادائیگی کرانے میں ناکام رہا ہے۔ کٹوتی بھی ہوتی رہی ہے۔

چیئرمین کمیٹی راؤ اجمل نے کہا کہ اپٹما بھی بڑا مافیا ہے۔ فروری سے جون تک کپاس امپورٹ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے مگر وہ سال بھر کے لیے اپنی ضرورت کے مطابق امپورٹ کر لیتے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کمیشن کا کام فیکٹ فائنڈنگ کا تھا، ساتھ میں سفارشات بھی کی گئی ہیں۔ بے نامی سیلز، ٹیکس کولیکشن کامسئلہ بھی بتایا ہے۔ ایف بی آر، ایف آئی اے، ایس ای سی پی  اور دیگر اداروں کو مزید تحقیقات کے لیے چیزیں بھجوائی گئی ہیں۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ہم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کن اداروں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تھی۔ جب سٹاک وافر مقدار میں موجود ہوں تو قیمتیں مستحکم رہتی ہیں  لیکن سٹاک کم ہو تو قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ حکومت نے اب سٹاک چیک کرنا شروع کر دیا ہے۔

رکن کمیٹی محمد ابراہیم خان نے کہا کہ 2018-19میں کسانوں کو 90 روپے فی من تک ادائیگی کی گئی جس کی وجہ سے کسانوں نے گنے کی کاشت بہت کم کی۔ یہی وجہ ہے کہ 2019-20 میں شوگر ملز 250 روپے فی من ادا کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔

رکن کمیٹی سردار ریاض محمود مزاری نے کہا کہ رحیم یار خان ضلع میں ملوں کی بھر مار ہے۔ جب گنے کی خریداری شروع ہوتی ہے تو گرمی کی وجہ سے وزن کم ہو جاتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی راؤ اجمل نے کہا کہ جب 2018ء میں گندم کا ذخیرہ گزشتہ 5 برسوں کے مقابلے میں کم ترین تھا تو وزارت نے اس وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا؟ جب ٹارگٹ پورا نہیں ہوتا تو پھر کسانوں کے گھروں سے بھی گندم اٹھا لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار اسسٹنٹ کمشنر میرے پاس آئے اور میں نے انہیں اپنا گودام کھول کے دکھایا۔ 2019ء سے پہلے گندم پوری تھی اور یہ مسئلہ اس کے بعد آیا۔ کھاد کی سبسڈی دینے کے لیے کہا گیا مگر ابھی تک میکانزم نہیں بن سکا۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل2019ء کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گندم کی پیداوار کم رہی تو پھر 30 جولائی تک ایکسپورٹ جاری کیوں رہی؟ سوجی اور میدے کی ایکسپورٹ بھی جاری رہی تھی، اس کا ذمہ دار کون ہے؟

راو اجمل نے سوال اٹھایا کہ حکومت فوڈ سیکیورٹی کی جمع تفریق پر چلتی ہے یا پھر اور ادارے بھی کام کرتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ کبھی نہیں دیکھا کہ 15 دنوں کے بعد گندم کی قیمت 200 روپے بڑھ جائے۔ 15 دنوں کے بعد ہی گندم کی قیمت 1400 سے بڑھ کر 1600 روپے، پھر1800 اور اب 2000 روپے فی من سے زائد ہو گئی ہے۔ اس رپورٹ کو آئے ہوئے بھی 5 ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے مگر کوئی بہتری نہیں آئی۔

چیئرمین کمیٹی راؤ اجمل نے کہا کہ واحد زمیندار ہے جس کی ایسوسی ایشن نہیں ہے باقی سب کی ایسوسی ایشن ہے۔

رکن کمیٹی محمد ابراہیم خان نے کہا کہ ان سوالات کے جوابات وزارت کو دینے چاہیں۔ ڈی جی ایف آئی اے نے انکوائری کی تھی اور وہ بتا چکے ہیں کہ ان کا بیک گراؤنڈ زراعت سے منسلک نہیں ہے۔

چیئرمین کمیٹی راؤ اجمل نے کہا کہ واجد ضیاء ایف آئی اے کو ہیڈ کر رہے ہیں وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ جس افسر یا سیاستدان کو بلوائیں اس کی ٹانگیں تھر تھر کانپنا شروع ہو جاتی ہیں۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ گندم کے ریٹ کا بروقت اعلان کیا جائے کیونکہ اب کسان پلان کر رہا ہے کہ اگلی کون سی فصل کاشت کرنی ہے اگر ریٹ کا اعلان تاخیر سے کیا گیا تو اس کا فائدہ کوئی نہیں ہو گا کیونکہ تب تک کسان کوئی اور فصل کاشت کر چکا ہو گا اور اس طرح گندم کے بحران کا پھر سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کمیٹی کو وزارت کی جانب سے بتایا گیا کہ ای سی سی نے 5 لاکھ ٹن گندم ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی تھی جس میں پاسکو نے صرف ایک لاکھ ٹن گندم ایکسپورٹ کی تھی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کھاد سبسڈی کا میکانزم تمام صوبوں میں مختلف ہے۔ تمام صوبوں سے کہا ہے ایک میکانزم بنائیں۔ گندم کے ریٹ کے حوالے سے پہلی بار سندھ اور پنجاب نے کہا کہ ہم اکٹھی مشاورت کر کے بتاتے ہیں۔ ملک کے اندر گندم کی نقل و حمل پر پابندی نہیں ہے۔

Tags: چینی کی قیمت میں اضافہ کیوں ہوا؟ڈی جی ایف آئی اےگندم، چینی اسکینڈلواجد ضیاء
sohail

sohail

Next Post

اوگرا کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سفارش

بھارتی عدالت نے بابری مسجد کے تمام 32 ملزمان بری کر دیے

کراچی میں کورونا کے بڑھتے کیسز، اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پیش

واٹس ایپ کا نیا فیچر، دوسروں کے موبائل سے ویڈیوز، تصاویر ڈیلیٹ کرنے کی سہولت

پارٹی رہنماؤں پر تنقید، فردوس شمیم نقوی اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے مستعفی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In