برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے والد پر بغیر ماسک کے خریداری کرنے پر 200 پاؤنڈز کا جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔
79 سالہ سٹینلے جانسن نے چند ماہ قبل بھی کورونا کے دوران عائد کی گئی سفری پابندیوں کی خلاف ورزی کی تھی جس کے بعد وزیراعظم کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ 3 ہفتے انگلینڈ سے باہر گزار کر واپس آئے ہیں جس کی وجہ سے نئے قوانین کے متعلق ان سے بھول چوک ہو گئی ہے۔
برطانیہ میں بڑی تعداد میں لوگ کورونا کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں، نئی تحقیق
برطانیہ کا سب سے بڑا شکاری پرندہ 240 سال بعد ملکی فضاؤں میں لوٹ آیا
ان کا کہنا تھا کہ میں تمام افراد کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ماسک اور سماجی فاصلے کے متعلق قواعد کی پابندی کریں۔
چند ماہ قبل سٹینلے جانسن سفری پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یونان میں اپنے ولا پر چلے گئے تھے جس کے بعد برطانیہ میں سخت ردعمل آیا تھا۔
انہوں نے اپنے سفر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے کوئی قانون نہیں توڑا، سیاحت کی وزارت کے پاس میرے کاغذات موجود ہیں۔
سٹینلے جانسن نے اس وقت کہا تھا کہ یونانی حکومت نے فضائی رستے سے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے جبکہ میں اپنی گاڑی پر گیا تھا۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم نے آج ہی قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ ایس او پیز کی پابندی کریں تاکہ کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر لاک ڈاؤن نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤں ملک کو بہت مہنگا پڑتا ہے، اس سے بچنے کے لیے عوام کو احتیاط کرنا ہو گی۔