مسلم لیگ (ن) نے ںظم و ضبط کی خلاف ورزی اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے اپنے 5 ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس بات کا اعلان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے اعلان کیا۔ پارٹی سے نکالے جانے والے اراکین پنجاب اسمبلی میں اشرف انصاری، جلیل شرقپوری، فیصل نیازی، نشاط ڈاہا اور مولوی غیاث الدین شامل ہیں۔
یہ کارروائی مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کے دستخطوں سے عمل میں آئی ہے۔
اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی ووٹنگ کے وقت اسمبلی سے غیرحاضر رہنے والے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
جن ارکان سینٹ اور قومی اسمبلی کو بھی شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں ان میں راحیلہ مگسی، کلثوم پروین، دلاور خان اور شمیم آفریدی شامل ہیں۔
سینٹ میں پارٹی ارکان کو شوکاز نوٹس ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق کے دستخطوں سے جاری ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز شیخوپورہ سے جلیل شرقپوری اور چودھری اشرف علی انصاری جب کہ نارووال سے ن لیگی رکن صوبائی اسمبلی محمد غیاث الدین نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی۔
اس کے عالوہ خانیوال سے منتخب ہونے والے رکن پنجاب اسمبلی محمد فیصل خان نیازی اور چودھری اشرف انصاری کے بھائی چودھری محمد یونس نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی۔