ایک عالمی سروے کے بعد ماہرین کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دن کے مقابلے میں راتوں کے اوقات میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے جنگلی حیات اور ان کی ماحول سے ہنگامی مطابقت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
آسٹریلیا کے ساحل پر بیش قیمت گھر سمندر کی نذر ہونے لگے
امریکہ میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ 75 کروڑ مچھر عوام میں پھیلانے کی منظوری
تحقیق کے مطابق انسانی جسم کے لیے رات کے وقت شدید گرمی کی لہر کے دوران خود کو ٹھنڈا رکھنے کا قدرتی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے گزشتہ 35 سالوں کے دوران دن اور رات کے درجہ حرارت میں آنے والے فرق کی پیمائش کی ہے جس سے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دن اور رات کا عالمی درجہ حرارت ایک جتنا بڑھ رہا ہے کہ لیکن دنیا کے آدھے حصے میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں زیرو اعشاریہ پچیس ڈگری کا فرق دیکھا گیا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق دنیا کے ان حصوں میں بھی دو تہائی حصے خصوصاً یورپ، مغربی افریقہ، جنوب مغربی امریکا اور سنٹرل ایشیا میں دن کے مقابلے میں راتیں گرم تر ہو رہی ہیں جب کہ جنوبی امریکا، میکسیکو اور مڈل ایسٹ میں دن رات کے مقابلے میں زیادہ گرم دیکھے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے دیکھی جا رہی ہیں جو بادلوں میں بھی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دن کے اوقات میں بادلوں کی تہہ دبیز ہوجاتی ہے جو سورج کی شعاعوں کے زمین تک پہنچنے میں رکاوٹ کی ایک وجہ بنتی ہے، جب کہ رات کے اوقات میں یہی بادل تپش اور نمی کو ایک کمبل کی طرح برقرار رکھتے ہیں۔
نتیجتاً دن کے مقابلے میں راتوں کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق جن علاقوں میں بادلوں کی تہہ ہلکی ہوتی ہے وہاں سورج کی روشنی کا کچھ حصہ زمین پر پہنچتا ہے جس سے دن کا درجہ حرارت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
ماحولیاتی نظام یا ایکو سسٹم انسانوں اور جانوروں کی انواع اور ان کی حیاتیاتی سرگرمیوں کے درمیان توازن کو برقرار رکھتا ہے، مثلاً یہ انواع اکثر دن کے اوقات میں اپنی خوراک کا انتظام کرتی ہیں۔ لہذا دن اور رات کے درجہ حرارت میں غیر متناسب تبدیلیاں ان علاقوں میں رہنے والے انسانوں اور جانوروں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ایکسٹر کے محقق ڈینئیل کاکس کا کہنا ہے کہ رات کے بڑھتے درجہ حرارت کا تعلق براہ راست آب و ہوا میں موجود نمی کی مقدار سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں سے ان جانداروں کی زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے جو دن کے رات کے اوقات میں اپنے کام کو سرانجام دیتے ہیں۔