لاہور: پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے کوئی خاموش کرانے کی کوشش نہ کرے، پاکستان کے حالات دیکھ کر چپ نہیں رہ سکتا۔
لاہور میں ہونے والے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ الیکشن جیت گئی تھی لیکن اسے ہرا دیا گیا، جو کچھ ہو رہا ہے اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ آناً فاناً ایسا کیونکر ہو گیا، لوگ 2018 تک کتنے خوشحال تھے، اس کے بعد بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے دور میں پاکستان پورے جنوبی ایشیا میں ٹائیگر بن چکا تھا جسے پوری دنیا تسلیم کر رہی تھی اور پاکستان کی ترق کی تعریف کر رہی تھی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں دہشت گردی ختم ہوئی اور امن و استحکام کو دوام ملا۔ ہمارے دور میں دنیا پاکستان کی ترقی کی تعریف کررہی تھی۔ ہم نے پاکستان کا نقشہ بدل دیا اور معیشت کو بہترکیا۔ ہمارے دور میں عوام خوش تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے دور حکومت میں معیشت کی شرح نمو 5.8 فیصد تھی جو آج منفی میں پہنچ گئی ہے، ہمارے زمانے میں ایک ڈالر 100 پاکستانی روپے کے لگ بھگ تھا، ہماری مجبوریاں بھی تھیں لیکن اس کے باوجود ہم نے 4 سال روپے کو قابو میں رکھا۔
انہوں نے کہا کہ روزمرہ اشیا کی قیمتوں کو بھی ہم نے 5 سال بڑھنے نہیں دیا، جب ہم آئے تھے تو فی کلو چینی 50 روپے میں ملتی تھی، ہم اسے 50 پر ہی چھوڑ کر گئے لیکن اس سلیکٹڈ وزیر اعظم نے دو سالوں میں یہ قیمت 100 روپے کر دی۔
انہوں نے کہا کہ پشاور بی آرٹی کے منصوبے پر 6 سال لگ گئے لیکں آج تک مکمل نہیں ہو سکا، ہم نے ڈیڑھ سال میں میٹرو بنائی۔
نوازشریف نے کہا کہ اپوزیشن رہنما شہبازشریف کو ناکردہ گناہوں کی سزاد ی جا رہی ہے۔ انہیں سنا بھی نہیں گیا، سیدھا جیل لے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آ ج پاکستان میں لوگ پریشان ہیں کہ بچوں کو پڑھائیں یا روٹی کھائیں۔ غریب بجلی کی بل دیں،ادویات خریدیں یا روٹی کھائیں؟
ان کا کہنا تھا کہ کیا ریاست مدینہ ایسی ہوتی ہے؟ ملک کے حالات یہ ہیں کہ عوام سکون سے سو نہیں سکتے۔