اسلام آباد: احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے اثاثے قرق کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت میں پیش کیے گئے نیب ریکارڈ کے مطابق نواز شریف کے اثاثوں میں گاڑیاں، بینک اکاؤنٹس اور پراپرٹیز شامل ہیں، لاہور میں ان کی 1650 کنال سے زائد زرعی اراضی بھی اس کا حصہ ہے۔
عدالت نے سابق وزیراعظم کی مرسڈیز، لینڈ کروزر اور 2 ٹریکٹرز بھی ضبط کر لینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور کے نجی بینک میں ان کے اکاؤنٹس، مری میں بنگلہ اور شیخوپورہ میں 102 کنال اراضی بھی قرق کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے نواز شریف کی جائیداد بھی ضبط کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
بی بی سی کے مطابق توشہ خانہ میں تعینات ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اگر کسی سربراہ مملکت یا چیف ایگزیکیٹو کو کسی دوسرے ملک کے صدر یا چیف ایگزیکیٹو کی طرف سے 10 لاکھ روپے تک مالیت کا تحفہ ملتا ہے تو وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہے لیکن اگر اس تحفے کی قیمت 10 لاکھ سے زیادہ ہو تو اسے توشہ خانے میں جمع کرانا ہوتا ہے۔