جاپان کو ہلا دینے والے مقدمے میں ایک شخص نے 9 افراد کو ٹوئٹر کے ذریعے رابطہ کر کے قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
‘ٹوئٹر قاتل’ کے نام سے معروف تاکاہیرو شیرائشی کو 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا جب اس کے فلیٹ سے انسانی جسم کے ٹکڑے برآمد ہوئے تھے۔
قاتل کے اعتراف جرم کے بعد اس کے وکلاء نے سزا میں کمی کی درخواست کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ مقتولین نے اپنی مرضی سے موت قبول کی تھی۔
کیس کی تفصیلات
پراسیکیوشن کے مطابق شیرائشی نے مارچ 2017 میں ایک ٹویٹر اکاؤنٹ بنایا اور ایسی خواتین کی تلاش شروع کر دی جو خودکشی کرنے کا سوچ رہی تھیں۔
اس نے اپنے ٹوئٹر پروفائل میں یہ لکھا کہ میں ان لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں جو تکلیف میں مبتلا ہیں، براہ کرم مجھے میسج کریں۔
29 سالہ قاتل نے ایسے لوگوں سے ٹوئٹر پر تعلق بنایا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ خود کشی کرنے میں ان کی مدد کر سکتا ہے، کچھ خواتین کو اس نے یہ بھی کہا کہ وہ ان کے ہمراہ خودکشی کرے گا۔
اس کے مقتولین میں 8 خواتین اور ایک مرد تھا جو اپنی گرل فرینڈ کے متعلق معلومات لیتا ہوا شیرائشی تک پہنچا تھا اور قتل ہو گیا۔
جن خواتین کو اس نے قتل کیا ان میں ایک 15 سال کی بچی بھی شامل تھی۔
پولیس ایک گمشدہ خاتون کی تلاش کرتے ہوئے اس کے فلیٹ پر پہنچی تو وہاں سے انسانی جسم کی باقیات ملیں جس کے بعد شیرائشی کو گرفتار کر لیا گیا۔
وکلاء کیا کہتے ہیں؟
اگر ملزم پر الزامات ثابت ہو گئے تو اسے پھانسی کی سزا ہو سکتی ہے تاہم اس کے وکلا کا کہنا ہے کہ چونکہ قتل ہونے میں خواتین کی اپنی مرضی بھی شامل تھی اس لیے ملزم کی سزا کم ہو سکتی ہے۔
لیکن تاکاہیرو شیرائشی اپنے وکلا سے اختلاف رکھتا ہے، اس نے ایک مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے شکاروں کو ان کی مرضی کے بغیر قتل کیا ہے۔
واقعہ کے اثرات
جب 2017 میں یہ واقعہ سامنے آیا تو جاپان میں بڑے پیمانے پر بحث چھڑ گئی، بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ خودکشی کے متعلق بات کرنے والی ویب سائیٹس پر پابندی عائد کر دینی چاہیئے۔
اس وقت کی حکومت نے اس بات کا اشارہ دیا کہ وہ اس حوالے سے نئے قوانین لانے پر غور کر رہی ہے۔
اس واقعہ کے بعد ٹوئٹر نے بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی کی اور کہا کہ نئے قواعد کے تحت صارفین خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے۔