برطانیہ کے وائلڈ لائف پارک میں آنے والے افراد کو گالیاں دینے والے 5 افریقی طوطوں کو پارک سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ان طوطوں کو اگست میں فرسکنی کے لنکن شائر وائلڈ لائف پارک میں اکٹھے رکھا گیا تھا جہاں پارک کے ملازمین کی گالیاں سن سن کر انہوں نے بھی نقل کرنا سیکھ لی۔
پارک کے چیف ایگزیکٹو سٹیو نکولس کا کہنا ہے کہ طوطے گالیاں دینے کے بعد انسانوں کا ردعمل دیکھتے تھے، اگر لوگ حیرت کا اظہار کرتے ہا قہقہہ لگاتے تو طوطے اسے حوصلہ افزائی سمجھ کر مزید گالیاں دینے لگتے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک گالیاں دیتا تھا اور باقی اس پر ہنستے تھے، یہ عمل مسلسل جاری رہتا تھا۔ بہت سے لوگ اس سے محظوظ ہوتے تھے لیکن چونکہ پارک میں بچے بھی آتے ہیں اس لیے عوام کے سامنے سے انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔
سٹیو نکولس کا کہنا ہے اب انہیں الگ الگ کر کے دیگر طوطوں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، امید ہے کہ یہ ان سے بہتر الفاظ سیکھ جائیں گے لیکن اگر باقی طوطوں نے ان سے گالیاں سیکھ لیں تو 250 پرندے یہ کام کر رہے ہوں گے اور مجھے نہیں پتا کہ میں کہاں جاؤں گا۔
یاد رہے کہ رواں برس چیکو نام کے ایک طوطے نے بیونس کا مشہور گیت ‘اگر میں لڑکا ہوتی’ گانا سیکھ لیا تھا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔
اب چیکو کا اپنا انسٹاگرام پیج ہے جسے بڑی تعداد میں لوگ فالو کرتے ہیں۔