مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے 25 لاکھ سے فیصد فالورز جعلی ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
میڈی ٹویٹس نے ان کے اکاؤنٹ کے آن لائن تجزیے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انہیں ٹوئٹر پر فالو کرنے والوں کی بھاری تعدا حقیقی انسانوں کے بجائے سافٹ وئیرز کے ذریعے بنائے گئے اکاؤنٹس (باٹ اکاؤنٹس) پر مشتمل ہے جس کا ممکنہ مقصد اپنے فالورز کی بھاری تعداد دکھانا ہو سکتا ہے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع خبر کے مطابق اس تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ مریم نواز کو ٹوئٹر پر 55 لاکھ 92 ہزار 493 افراد فالو کرتے ہیں جن میں سے 10 لاکھ اکاؤنٹس کا کوئی فالور نہیں ہے جو جعلی اکاؤنٹ ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے۔
اسی طرح انہیں فالو کرنے والے 7 لاکھ 43 ہزار 906 اکاؤنٹس ایسے ہیں جن کا صرف ایک فالور ہے اور 14 لاکھ 39 ہزار 946 اکاؤنٹس کے 2 سے 5 فالورز ہیں۔
اگر ان اکاؤنٹس کو منہا کر لیا جائے تو مریم نواز کے باقی فالورز 24 لاکھ 8 ہزار بچتے ہیں جو حقیقی ہو سکتے ہیں مگر کچھ دیگر زاویوں سے دیکھا جائے تو یہ بھی مشکوک ہی ٹھہرتے ہیں۔
اس تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو ان اکاؤنٹس کو حال ہی میں تخلیق کیا گیا ہے یا ان کا مقصد ٹوئٹر پر دیگر صارفین کے ساتھ رابطہ بڑھانے کے بجائے صرف فالورز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔
مریم نواز کے اکاؤنٹ کا مزید تجزیہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہیں فالو کرنے والے 1898 اکاؤنٹس 24 ستمبر کو تخلیق کیے گئے تھے جس دن یہ تجزیہ کیا گیا۔
اسی طرح 37 ہزار 24 اکاؤنٹس اس سے ایک دن قبل بنائے گئے تھے جبکہ ستمبر کے پورے مہینے کے دوران 2 لاکھ 97 ہزار 537 نئے اکاؤنٹس بنے جنہوں نے مریم نواز کو فالو کیا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور نوازشریف کی صاحبزادی کو فالو کرنے والے اکاؤنٹس میں سے 20 لاکھ 31 ہزار 918 نے کبھی ایک بھی ٹویٹ نہیں کی، 6 لاکھ 85 ہزار 416 نے صرف ایک ٹویٹ کی ہے جبکہ 10 لاکھ 6 ہزار 24 اکاؤنٹس نے کل 2 سے 5 ٹویٹس کی ہیں۔
اس تجزیے کو مدنظر رکھا جائے تو بادی النظر میں ان اکاؤنٹس کا مقصد صرف مریم نواز کے ٹویٹس کو لائیک کرنا اور انہیں ری ٹویٹ کرنا معلوم ہوتا ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ مصنوعی تاثر بھی پیدا کرنا ہے کہ ان کے فالورز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، یہ جعلی اکاؤنٹس کی ایک اور اہم نشانی ہے۔
میڈی ٹویٹس نے اپنے تجزیے میں بتایا کہ مریم نواز کے 76 فیصد فالورز ان جعلی اکاؤنٹس پر مشتمل ہو سکتے ہیں جنہیں سافٹ ویئرز کے ذریعے دھڑادھڑ تخلیق کیا جاتا ہے۔
اسی طرح تجزیے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان کے 55 لاکھ کے قریب فالورز میں سے ساڑھے 51 لاکھ 19 ہزار ایسے ہیں جنہوں نے کبھی بھی ان کی ٹویٹس کو لائیک یا ری ٹویٹ نہیں کیا جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ڈارمنٹ (غیرمتحرک) اکاؤنٹس ہیں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈیٹا کے ایک ماہر کے مطابق مریم نواز کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے فالورز کی بڑی تعداد غیرمتحرک ہے اور اس تعداد کو بڑھانے کا مقصد اپنی انا کی تسکین ہو سکتا ہے۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ حقیقی انسانوں کے بجائے سافٹ وئیر سے بنائے گئے اکاؤنٹس کا تعلق کس علاقے سے ہے اور کیا انہیں رپورٹ کر کے بند کرایا جا سکتا ہے؟
انہوں نے جواب میں بتایا کہ ایسے مشینی اکاؤنٹس عموماً اپنی درست لوکیشن نہیں بتاتے اور ٹوئٹر کا ایسے اکاؤنٹس کو تلاش کر کے ڈیلیٹ کرنے کی صلاحیت بہت محدود ہے۔
یاد رہے کہ 2016 میں ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات اور برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے میں سافٹ ویئر کے ذریعے ہونے والی آن لائن ایکٹیوٹی اور ان کے ذریعے غلط معلومات کے پھیلاؤ نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس کے بعد ٹوئٹر ایسے اکاؤنٹس کے خاتمے کے لیے متحرک ہو گیا تھا لیکن جسقدر تیزی سے اور جتنی بڑی تعداد میں ایسے اکاؤنٹس تخلیق کیے جا رہے ہیں، ٹویٹر کا الگورتھم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔