نامناسب مواد نہ ہٹانے پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سپ لنکنگ ایپ ٹک ٹاک کو ملک میں بند کردیا۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک دی گئی مدت کے دوران ایپلی کیشن سے نامناسب اور متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہا، جس وجہ سے اسے پاکستان میں بند کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ایپ کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور ناشائستہ مواد ہٹانے کی ہدایت کی گئیں مگر ان پر عمل نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے پی ٹی اے ٹک ٹک انتظامیہ کو نوٹس دیتی اور نامناسب مواد ہٹانے کا کہتی رہی ہے، رواں برس جولائی میں انہیں آخری وارننگ دی گئی۔۔
اس کے جواب میں ٹک ٹاک انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان سے بہت بڑی تعداد میں متنازع ویڈیوز ہٹا دی ہیں، انہوں نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ میں جاری ایک درخواست میں بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی تھی، یہ درخواست ایک عام شہری نے دائر کی تھی۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں اس ایپلی کیشن کے استعمال کرنے والے 10 سے زائد افراد کی موت واقع ہوچکی ہے، اس کے علاوہ یہاں موجود مواد فحاشی سے بھرپور ہے۔
دائر درخواست میں ٹک ٹک کے مواد کو سماجی اقدار اور مذہب کے منافی قرار دیا گیا تھا۔