قومی اور بین الاقوامی سطح پر فٹ بال کھیلنے والی 23 سالہ کرشما علی کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع چترال سے ہے۔
سطح سمندر سے 1500 میٹر بلند اس علاقے کی رہائشی کرشما علی چترال کی خواتین کی زندگیاں بدلنے کے لیے سرگرم ہیں۔
گزشتہ سال جنوری میں امریکی میگزین فوربز کی تھرٹی انڈر تھرٹی فہرست میں دیگر کئی خواتین کے ساتھ کرشما علی بھی اپنا نام درج کرانے میں کامیاب رہیں۔
فہرست میں جاپان کی 21 سالہ ٹینس کھلاڑی ناومی اوساکا پہلے نمبر پر تھیں جبکہ دوسرے نمبر پر کرشما علی کا نام رہا جو اپنے علاقے سے بین الاقوامی فٹ بال کھیلنے والی پہلی خاتون ہیں۔
سی این این سے بات کرتے ہوئے کرشما علی کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقے میں لڑکیوں کے لیے ایسے خواب دیکھنا ناممکن سی بات ہے جو معاشرے کی روایات کے خلاف ہوں۔
چترال ویمن سپورٹس کلب کی بنیاد رکھنے والی کرشما علی کا کہنا ہے کہ کلب کو کورونا کی وجہ سے بند رکھا گیا تھا جسے دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے بنائے گئے ایکسچینج پروگرام کے تحت لڑکیوں کو اسلام آباد میں بھی فٹ بال کھیلنے کے مواقع ملیں گے۔
کرشما علی کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے فٹ بال کھیلنے کا آغاز کیا تھا تو انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی لیکن انہوں نے اپنے خواب کو حقیقت بنانے کی پوری کوشش کی اور اپنی آواز کو بھی دبنے نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ان خواتین اور لڑکیوں کی زندگی میں تبدیلی لانا چاہتی ہوں جو ایک گھریلو خاتون سے زیادہ بننا چاہتی ہیں۔
کورونا وبا کے دوران کرشما علی اپنے والد اور چچا کے ہمراہ چترال کے ضرورتمند خاندانوں تک راشن بھی پہنچاتی رہی ہیں۔
ایسے ماحول میں جہاں بچیوں کی چھوٹی عمر میں شادی کرا دی جاتی ہے، کرشما کے والد نے انہیں اپنے خواب کو پورا کرنے اور اپنی تعلیم کو مکمل کرنے کی پوری آزادی دی۔
ہیومن رائٹس واچ کی 2020 میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 21 فیصد لڑکیوں کی اوائل عمری میں ہی شادی کرا دی جاتی ہے۔
کرشما کے والد نے انہیں دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے کے اپنے خواب سے پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں صرف اپنے والد کی وجہ سے باقی لڑکیوں سے مختلف رہی۔
انہوں نے کہا کہ جب میں بڑی ہو رہی تھی تو ہمارے علاقے کی بچیاں اسکول نہیں جا پاتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میں 8 سال کی تھی تب مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
کرشما نے بتایا کہ اگر ان خواتین کو مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف شعبوں میں اپنے کام سرانجام دے سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے 2006 میں اپنے والد کے ساتھ فیفا ورلڈ کپ دیکھا اور انہیں اس کھیل کے ساتھ محبت ہوگئی، اور جب میں نے فٹ بال کے میدان میں قدم رکھا تو میں نے ساری مشکلات کو بھلا دیا کیونکہ میں صرف اپنے کھیل پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جب میں نے فٹ بال کھیلنا شروع کیا تو مجھے میرے والد نے کہا کہ اگر چترال کے لوگوں سے یہ بات راز میں رہے تو تمہارے لیے آسانی ہوگی۔ میں نے اپنی تصاویر یا ویڈیو کبھی سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کی اور نا ہی کسی کو اس بارے میں بتایا۔
کرشما کا کہنا تھا کہ 2016 میں پہلی بار جب میری نظر اپنی تصویر پر پڑی جس پر لکھا تھا کہ کرشما علی چترال سے بین الاقوامی فٹ بال کھیلنے والی پہلی خاتون ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس پوسٹ کے بعد انہیں نا صرف خوفناک دھمکیاں دی گئیں بلکہ نازیبا کمنٹس بھی کیے گئے۔
کرشما نے بتایا کہ میں عمر صرف 18 سال تھی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے بعد میں نے فٹ بال چھوڑنے کا بھی سوچا تھا، ایسے حالات میں میرے والد نے مجھے حوصلہ دیا۔