سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ کی جانب سے پولیس کی اصلاح کی مہم جاری ہے، اپنی حدود سے تجاوز کر کے عوام کو تنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں اور افسروں کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
اس حوالے سے تازہ واقعے میں انہوں نے سب انسپکٹر ارشد علی کے خلاف تھانہ نواب ٹاؤن میں مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا۔
سب انسپکٹر ارشد علی چوکی طارق شہید کمبوہ کے انچارج تھے، انہوں نے پولیس کے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی ہوٹل پر ریڈ کیا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ریڈ کے دوران ایک طالبہ کو بھی ہراساں کیا، سی سی پی او عمر شیخ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا جس میں سب انسپکٹر کو قصوروار پایا گیا۔
ایس پی صدر نے انکوائری میں ارشد علی کو قصور وار ٹھہرایا تھا جس کے بعد ان پر مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ اپنے ایک انٹرویو میں سی سی پی او لاہور نے پولیس کے کورٹ مارشل کا ذکر کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پولیس اہلکاروں کے رویے کی اصلاح کی جائے اور جہاں وہ اپنی حدود سے باہر قدم رکھیں وہاں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔
انہوں نے پولیس کی پولیسنگ کا تصور بھی دیا ہے، ماضی میں جہاں ان کی پوسٹنگ ہوئی ہے وہاں انہوں نے اس تصور کو حقیقی طور پر نافذ بھی کیا ہے اور اس وقت وہ لاہور کی پولیس کو سدھارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔