وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں مولانا عادل کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں علما کی ٹارگٹ کلنگ سے فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے علما سے اپیل کی کہ وہ ملک کو غیر مستحکم بنانے کی بھارتی سازش کو ناکام بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ماہ کےد وران ایسی کئی کوششوں کا ناکام بنایا گیا، خفیہ ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ذمہ داران کو انجام تک پہنچائیں گے۔
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی مولانا عادل کے قتل پر اظہار افسوس کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان میں ملک دشمنوں کی انتشار پھیلانے کی سازش قرار دیا۔
آرمی چیف نے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے سول انتظامیہ کو مکمل مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں گزشتہ روز نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل خان ڈرائیور سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔
پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے چلائی گئی 5 گولیاں مولانا عادل کو لگیں۔
پولیس کے مطابق 4 گولیاں ان کے سر اور چہرے پر لگیں اور ایک بازو میں لگی۔ مولانا عادل کے سر اور چہرے پر لگنے والی گولیاں موت کا سبب بنیں۔
مولانا کے ڈرائیور مقصود کو سر میں ایک گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔