• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

چھوٹے سے ہوٹل میں کام کرنے والی جسینڈا آرڈرن نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کیسے بنیں؟

by sohail
اکتوبر 11, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب نیوزی لینڈ کے ایک قصبے موررینزویلا میں جیسنڈرا آرڈن نامی خاتون ایک مقامی ہوٹل کے کاونٹر پر آرڈرز لے رہی تھیں۔ یہی 40 سالہ خاتون اب اسی ملک کی قابل اور خوبصورت وزیراعظم کے نام سے جانی جاتی ہیں۔

بطور وزیراعظم نیوزی لینڈ کا انتظام سنبھالنے والی جیسنڈرا آرڈن اپنی تقرری کے فوراً بعد سے خبروں کا حصہ بنی رہی ہیں۔

اپنے 3 سالہ دور اقتدار کے دوران انہوں نے ملکی مفاد میں انتہائی بہترین فیصلے کیے۔

اسی دوران اپنے بچے کو جنم دینے والی جیسنڈرا نے گھر کے ساتھ ملک کے انتظام کو بھی سنبھالا دیا۔

کرائسٹ چرچ حملے کے بعد پیدا ہونے والے عالمی بحران سے نمٹنے سے لے کر کورونا جیسے وبائی مرض کے خلاف فتح حاصل کرنے والی جیسنڈرا کے ہر اقدام کو سراہا جاتا رہا۔

انہیں اپنے ملک کی بہترین لیڈر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے معروف فیشن اور نیوز میگزینز کے کور پیج کی زینت بننے والی جیسنڈرا امریکی ٹی وی کے پرسنیلٹی شو کی میزبانی بھی کر چکی ہیں۔ 

گزشتہ سال آسٹریلیا میں معروف سیاستدانوں کے حوالے سے کیے جانے والے سروے میں وہ پہلے نمبر پر رہیں۔

رواں مہینے ہونے والے نیوزی لینڈ کے انتخابات کے لیے انہیں ملک کی پسندیدہ ترین شخصیت مانا جا رہا ہے۔

اب سوال یہ نہیں ہے کہ کیا جیسنڈرا دوسری مرتبہ بھی انتخابات میں کامیابی حاصل کر پائیں گی یا نہیں، لیکن اگر وہ انتخابات جیت جاتی ہیں تو ان کی پارٹی موجودہ سیاسی نظام کے تحت اکثریت حاصل کرنے والی پہلی سیاسی جماعت ہوگی۔

دوسری جانب جیسنڈرا آرڈن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے حکومت بننے سے پہلے جو وعدے کیے تھے ان پر بہت کم کام کیا ہے۔

جیسنڈرا کے آبائی قصبے موررینزویلا  میں بھی ان کے ناقدین موجود ہیں۔

1980 میں پیدا ہونے والی جیسنڈرا آرڈن نے زندگی کے ابتدائی سال نیوزی لینڈ کے ایک پسماندہ قصبے موروپارہ میں گزارے۔

انہوں نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں موروپارہ میں پیش آنے والی ان مشکلات کا ذکر کیا۔ انہوں نے موروپارہ میں غربت، بےروزگاری اور صحت کی ناقص نظام پر تنقید کی۔

1980 میں ان کے خاندان نے مورینزویلا سے 160 کلومیٹر دور ایک قصبے میں ہجرت کی جہاں ان کے دادا نے کاشت کاری شروع کی۔ جیسنڈرا کے والد مقامی پولیس میں تعینات تھے جب کے ان کی والدہ ایک اسکول میں باورچی کی نوکری کرتی تھیں۔

14 سال کی عمر میں جیسنڈرا نے اسکول کے بعد گولڈن کیوی فش اینڈ چپس شاپ نامی ایک مقامی ریسٹورنٹ میں ملازمت اختیار کی۔

گولڈن کیوی ہوٹل جس میں نوجوان جسینڈا ملازمت کرتی تھیں ۔ فوٹو کریڈٹ سی این این

جیسنڈرا کے جاننے والے بتاتے ہیں کہ وہ بولنے میں بہت اچھی اور خوش مزاج تھیں۔ بولنے کے اسی فن کی بدولت انہیں اسکول میں ہی سیاسی کامیابیاں ملیں، جیسنڈرا اپنے طلبا کی جانب سے بورڈ آف ٹرسٹیز کی نمائندہ رہ چکی ہیں۔

انہوں نے بورڈ سے مطالبہ کر کے لڑکیوں کے یونیفارم میں تبدیلی کرائی جس کے بعد اسکول میں پہلی بار لڑکیوں کو شارٹس پہننے کی اجازت دی گئی۔

جسنڈرا کے اسکول پرنسپل انہیں ایک انتہائی ذہین اور بہترین مقرر قرار دیتے ہیں۔

کالج دور کی ایک تصویر ۔ فوٹو کریڈٹ : سی این این

انہوں نے ویلنگٹن سے گریجوئیشن کی اور ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم ہیلن کلارک کے دفتر میں کام کرنا شروع کیا۔

بعد ازاں وہ لندن چلی گئیں جہاں انہوں نے گورنمنٹ کیبنٹ آفس میں ملازمت شروع کر دی، 28 سال کی عمر میں وہ سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے لیے تیار تھیں اور واپس نیوزی لینڈ آ گئیں۔

انہوں نے اپنے آبائی قصبے سے انتخابات میں حصہ لیا اور پارلیمنٹ پہنچ گئیں، وہ سب سے کم عمر پارلیمنٹیرین تھیں۔

2011 میں انہوں نے پہلی بار ناکامی کا مزا چکھا جب انہیں 700 ووٹوں کی کمی کے باعث شکست ہوئی، 2014 میں وہ ایک بار پھر 600 ووٹوں سے شکست کھا گئیں۔

آخرکار 2017 میں انہوں نے لیبر پارٹی کی محفوظ نشست سے کامیابی حاصل کی اور ان کی کامیابیوں کا دور شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔

2017 کے انتخابات سے قبل لیبر پارٹی عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ 2018 کے انتخابات سے قبل پارٹی کو تین بار انتخابات میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

لیبر پارٹی کے لیڈر اینڈریو لٹل کو پولز کے نتائج سے اندازہ ہوا کہ وہ کسی صورت وزیراعظم نہیں بن سکتے تو پارٹی نے جسینڈا آرڈرن کو ان کی جگہ وزارت عظمیٰ کا منصب دے دیا۔

37 سال کی عمر میں وہ لیبر پارٹی کی تاریخ کی کم عمر ترین رہنما کے طور پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم بن گئیں۔

2020 میں یہی پارٹی جیسنڈرا آرڈن کی بدولت بہتری سیاسی جماعتوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

جیسنڈرا کو گزشتہ ڈیڑھ سو سالوں میں نیوزی لینڈ کی پہلی کم عمر وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

Tags: جسینڈا آرڈرنجسینڈا آرڈرن کی زندگی کی کہانینیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن
sohail

sohail

Next Post

کورونا وبا کے باعث پاکستان میں نفسیاتی امراض میں اضافہ ہوا، ماہرین

پاکستان 6 ماہ میں کورونا ویکسین حاصل کرنے کے لیے پرامید

وکلاء کی تقریب میں شرکت، سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

وزیراعظم نے عاصم باجوہ کا استعفیٰ منظور کر لیا

شیخ رشید کو مولانا عادل قتل کیس میں شامل تفتیش کیا جائے، سعید غنی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In