آرمینیا اور آذربائیجان میں ناگورنو کاراباخ کے متنازعےعلاقے پر دو ہفتوں سے جاری جھڑپوں کے بعد عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عارضی صلح کے ایک گھنٹے بعد ہی فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر معاہدہ توڑنے کے الزامات بھی لگائے گئے۔
جنگ بندی سے قبل بھی آرمینیا اور آذربائیجان نے ایک دوسرے پر شہری علاقوں پر بمباری کرنے کے الزامات لگائے تھے۔ جنگ بندی کے مقاصد میں دونوں اطراف قیدیوں کا تبادلہ اور لاشوں کی بازیابی شامل ہے۔
27 ستمبر سے شروع ہونے والے تنازع میں اب تک 300 سے زائد اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جب کہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
ناگورنو کاراباخ آذربائیجان کا حصہ ہے لیکن اس میں آرمینیائی نسل کے افراد کی حکومت ہے، گزشتہ کئی سالوں سے دونوں ممالک اس خطے پر جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔
سویت یونین کا حصہ رہنے والے دونوں ممالک سیزفائر کے بعد بھی ایک دوسرے کو حملوں کا نشانہ بنانے کر الزامات لگا رہے ہیں۔
روس کے شہر ماسکو میں ہونے والے طویل اجلاس کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک میں مذاکرات کی ابتدا ہو گئی ہے۔
تاہم آرمینین وزیرخارجہ زوہراب کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین میں مذاکرات ہونے مشکل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمینیا صرف یہ چاہتا ہے کہ کاراباخ کو آزاد ریاست تسلیم کیا جائے۔
آذربائیجان کے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران آرمینیا پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔
ترکی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جنگ بندی آرمینیا کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ اپنی افواج متنازعے علاقے سے نکال لے۔
دوسری جانب روس کے آرمینیا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، آرمینیا میں روس نے اپنا ملٹری بیس بھی قائم کیا ہے، تاہم روس کے آذربائیجان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔
جنگ بندی کے بعد آرمینیا کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیز فائر کے چند منٹ بعد آذربائیجان کی جانب سے کاراباخ کے دارالحکومت اسٹپن کیرٹ پر میزائل حملے کیے گئے ہیں جن میں آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
آذربائیجان کے وزارت دفاع کی جانب سے بھی آرمینین افواج پر حملوں کا الزام لگایا گیا۔ جس کی آرمینیا کی جانب سے تردید کر دی گئی۔