اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا وبا کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، غیرذمہ داری کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ایپ پر اپنی ٹویٹ میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا اور رویہ نہ بدلا تو جان کے ساتھ روزگار بھی کھو دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے کورونا سے یومیہ اموات کی تعداد 12 رہی ہے جو اس سے قبل کے اعدادوشمار سے بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے اموات کی شرح چند ہفتے پہلے کے مقابلے میں 140 فیصد زیادہ ہے۔ اس تناظر میں ہم کورونا کے تمام ایس او پیز کو نظر انداز کر کے غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
اسد عمر نے مزید کہا کہ ہم موجودہ راستے تبدیل نہیں کریں گے تو زندگی اور معاش سے محروم ہو جائیں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ کراچی میں بھی کورونا وایئرس بڑھا ہوا ہے جبکہ اسلام آباد اور لاہور میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہمیں کورونا ایس او پیز کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔
انہوں نے لاک ڈاؤن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال خراب ہوئی تو ہمیں سخت ایکشن لینا ہوں گے جن سے معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ کورونا ایس او پیز کو نظر انداز کرنے کے نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔ کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 14 افراد جاں بحق ہوگئے، عالمی وباء سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 6 ہزار 673 ہو گئی۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی و سی) کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 625 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ، جس کے ساتھ ہی ملک میں مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 24 ہزار 84 تک پہنچ چکی ہے ، جہاں اس وقت پاکستان میں کورونا کے 9 ہزار 461 مریض زیرعلاج ہیں ، مجموعی طور پر 3 لاکھ 7 ہزار 950 صحتیاب ہوچکے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث صوبہ پنجاب میں 2 ہزار 298 ، صوبہ سندھ میں 2 ہزار 581 اموات ہو چکی ہیں، صوبہ خیبر پختونخوا میں اموات کی تعداد ایک ہزار 265، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 195، صوبہ بلوچستان میں 148، گلگت بلتستان میں 90 اور آزاد کشمیر میں جاں بحق ہونے والی کی تعداد 82 ہو گئی ہے۔
مجموعی تعداد دیکھی جائے تو اسلام آباد میں کورونا کیسز18 ہزار 69 تک پہنچ گئے ہیں، صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ ایک ہزار 760، صوبہ سندھ میں ایک لاکھ 42 ہزار 134، صوبہ خیبر پختونخوا میں 38 ہزار 708، صوبہ بلوچستان میں 15 ہزار 704، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 84 اور آزاد کشمیر میں 3 ہزار 507 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔