جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے حالیہ جلسوں میں اداروں کے سربراہان اور چند اہم شخصیات کا نام لینے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں تو ہماری سر آنکھوں پر۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ادارے بشمول عدلیہ سیاست میں ملوث نا ہوں۔
صحافی کے اداروں کے سربراہان کے نام لینے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اداروں اور شخصیات کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کا نام لینے کی نوبت ہی نہیں آنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا ہمیں اصل جمہوریت کی طرف لوٹنا چاہیے تاکہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ وجود میں آسکے۔
اپنے جلسوں کے شیڈول سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑے شہروں میں جلسوں کا آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل کراچی اور گجرانوالہ میں ہونے والے جلسے کامیاب رہے ہیں۔
مولانا کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دوسرا شخص آپ کی حویلی پر آکر قابض ہو جائے تو غریب آدمی احتجاج پر مجبور ہوگا۔ کسی دوسرے کے گھر جا کر اپنا کردار ادا کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تمام اداروں کے درمیان وحدت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ایک قوم بن کر مصائب کا سامنا کرے۔
کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہی تحریک انصاف مزار قائد پر ہلڑ بازی کرتی رہی ہے۔ حکومت کو تمام قانونی راستے اختیار کرنے کا حق ہے لیکن کل جو کچھ ہوا وہ حکومت کے لیے باعث ندامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے حرمین شریفین کی حرمت پامال کرتے ہوئے نواز شریف کے خلاف نعرے لگائے۔ لیکن کیپٹن صفدر کے نعرے ان کا جرم بن گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہوٹل کا دروازہ توڑ کر عورت کی حرمت کو بھی پامال کیا گیا ہے، ہم اس بدمعاشی کو کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا ہم جو اقدام اٹھائیں گے وہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھائیں گے ہم کسی نادیدہ طاقت کا سہارا نہیں لیں گے۔
واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے 18 اکتوبر کو کراچی میں بڑا جلسہ کیا تھا۔
جلسے سے قبل مزار قائد پر لیگی رہنماوں کی حاضری دینے کے دوران لیگی کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے بازی کی۔
جس کے ساتھ کیپٹن صفدر نے مزار قائد کے پروٹوکول کو توڑتے ہوئے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا۔
واقعے کے بعد مریم نوز شریف اپنے ٹویٹر پر بتایا کراچی پولیس نے ہوٹل کا کمرہ توڑ کر کیپٹ صفدر کو گرفتار کیا ہے۔
اس سے قبل پی ڈی ایم نے 16 اکتوبر کر پنجاب کے شہر گجرانوالہ میں بھی جلسہ کیا تھا۔