کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف سے کراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ پیش آئے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں مریم صاحبہ اور صفدر صاحب کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر شرمندہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے تحقیقات کااعلان کیا ہے، ہمارا آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے مطالبہ ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کریں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کو ہراساں کر کے گرفتار کرنا سندھ کی عوام کی توہین ہے۔
انہوں نے پوچھا کہ وہ کون تھے جنہوں نے رات کے دو بجے آئی جی کے گھر کا گھیراو کیا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پولیس کے ایس ایچ او سے لے کر اعلیٰ افسران تک سب سوال کر رہے ہیں، پولیس کے افسران چھٹی پر جا رہے ہیں، ان کی عزت کا مسئلہ بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب اپنی عزت کیلئے کام کرتے ہیں اور سب چاہتے ہیں کہ قانون کے دائرے میں کام کریں۔
مریم نواز کے ہوٹل کے کمرے پر چھاپے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ واقعہ جیسے بھی ہوا اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔
پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل صرف ایک جماعت حل نہیں کر سکی، عوام نے پاکستان پیپلزپارٹی کو تاریخی مینڈیٹ دیا اور ایسا مینڈیٹ ذوالفقار بھٹو اور بی بی شہید کو بھی نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم آئی سندھ کو تبدیل کرنا چاہیں تو مشکل ہوتی ہے جب کہ پنجاب پولیس کے 6 آئی جی تبدیل ہو چکے ہیں۔
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ باقی صوبوں میں پولیس فورس پی ٹی آئی کی پولیٹیکل فورس کے طور پر کام کرتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جانے کے بعد کوئٹہ پہنچنے کی کوشش کروں گا، اگر نہ پہنچ سکا تو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کروں گا۔
ایک صحافی کے سوال پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ گورنر راج غیر قانونی ہے، ازخود گورنر راج نہیں لگا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ غیرسیاسی فیصلوں کی وجہ سے سندھ پولیس کا مورال گرا ہے، پولیس اہلکاروں کی تنخواہ پیکج اتنا نہیں لیکن وہ عزت سے کام کرنا چاہتے ہیں۔