کراچی: کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر مقدمے اور گرفتاری کے حوالے سے پولیس کے اعلیٰ افسران پر دباؤ کا معاملہ نئی شکل اختیار کر گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس حکام کے اعلیٰ افسران نے دلبرداشتہ ہو کر احتجاجاً چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرنے والوں میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ اور متعدد ڈی آئی جیز شامل ہیں۔
کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ کو اغوا کیا گیا، محمد زبیر کا دعویٰ
نمائندہ جیو نیوز کے مطابق آئی جی سندھ نے بھی اپنی چھٹی کی درخواست تیار کر لی ہے اور وہ کچھ دیر میں اسے منظوری کے لیے بھیج کر کام چھوڑ دیں گے۔
ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے اپنی چھٹیوں کی درخواست میں کہا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدرکے خلاف ایف آئی آر کے واقعے میں پولیس افسران کو بے عزت کیا گیا اور ایف آئی آر کے معاملے میں ناروا رویے پر تمام پولیس افسران کو دھچکا لگا۔

عمران یعقوب نے لکھا ہے کہ دباؤ کے اس ماحول میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی مشکل ہے، اس دباؤ سےنکلنے کے لیے مجھے 60 روز کی رخصت دی جائے۔
یاد رہے کہ سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے دعویٰ کیا تھا کہ رینجرز نے آئی جی سندھ کو اغوا کیا، انہیں سیکٹر کمانڈر آفس لایا گیا جہاں ایڈیشنل آئی جی پہلے سے ہی موجود تھے۔ یہاں پر آئی جی سندھ کو کیپٹن (ر) سفدر کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔
اس حوالے سے معروف خاتون صحافی غریدہ فاروقی نے بھی ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے محمد زبیر کی آڈیو کال شیئر کی جس میں محمد زبیر کہہ رہے ہیں کہ انہیں مراد علی شاہ نے بتایا کہ آئی جی سندھ اغوا ہوئے، سیکٹر کمانڈر کے آفس لائے گئے اور پھر پرچہ کٹا۔
محمد زبیر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے انہیں کہا یہ بات جہاں مرضی بتا دیں چھپانے والی نہیں۔