مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سندھ پولیس کے سربراہ کے مبینہ اغوا پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ سندھ کے وزیراعلی کو کال کرتے اور صورتحال کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے۔
اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال صرف اور صرف ملک میں انتشار پیدا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے صرف وفاق اور صوبے میں ٹکراو کی کیفیت پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کے ساتھ کھڑے رہیں گے، کیپٹن صفدر اور دیگر لیگی رہنماوں کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس کا کردار قابل ستائش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیگی رہنماوں کی گرفتاری کے دباؤ کے بعد پولیس افسران کا چھٹی پر جانا ایک اصولی اقدام تھا۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں تمام ادارے وزیراعظم کو رپورٹ کرنے کے پابند ہوتے ہیں، لیکن جب وزیراعظم آفس سے جواب نہیں آیا تو بلاول بھٹو اور دیگر رہنماوں نے آرمی چیف اور اینٹیلی جنس اداروں سے مداخلت کی درخواست کی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے فوج کو بھی سیاست میں ملوث کر دیا ہے، فوج کا کسی بھی معاملے میں ہاتھ نہیں ہونا چاہیے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملکی صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے، وزیراعظم وفاق اور صوبے کے ٹکراو کی وجہ بن رہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سندھ میں پولیس چیف سے لے کر عام آدمی تک غیرمحفوظ ہے، ان کا کہنا تھا جس صوبے کے آئی جی پولیس کے رات کے چار بجے اغوا کر لیا جائے اس کی عوام کتنی غیر محفوظ ہوگی۔
انہوں نے حکومتی وزرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے واقعات ہوگئے لیکن کسی نے نا تو پریس کانفرنس میں ذکر کیا اور نا ہی کوئی تقریر کی۔ حکومت کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم کے سر پر صرف انتقام سوار ہے، انہیں عوام کی تکلیفات کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ انہیں صرف اس بات کی خبر ہے کہ اپوزیشن کیا کر رہی ہے اور شہباز شریف کو کھانے میں کیا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا وزیراعظم تمام اداروں کو سیاست میں ملوث کر رہا ہے۔
یاد رہے 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسے سے قبل پی ڈی ایم کے رہنماوں نے مزار قائد پر حاضری دی تھی۔
اس دوران لیگی رہنما کیپٹن صفدر نے مزار قائد کا پروٹوکول توڑتے ہوئے نعرے بازی کی۔ سندھ پولیس کی جانب سے مزار قائد کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں صبح گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انہیں بعد ازاں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔
پی ڈی ایم کے رہنماوں نے گرفتاری کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے آرمی چیف سے نوٹس لینے کی درخواست کی تھی۔