اپوزیشن کی 11 جماعتوں کا کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں پاور شو کیلئے میدان سج گیا ہے اور جلسہ شروع ہو گیا ہے۔
اپوزیشن جماعتیں کوئٹہ میں مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف تحریک کا تیسرا جلسے کر رہی ہیں۔
آج کے جلسے میں شرکت کیلئے مسل لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر کئی رہنما جلسے میں پہنچ چکے ہیں اور تقاریر شروع ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب متوقع ہے۔
آج کوئٹہ میں ہونے والے اپوزیشن کے جلسے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان حکومت نے دفعہ 144 کے تحت کوئٹہ میں ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
خیال رہے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے اپوزیشن اتحاد پر زور بھی دیا تھا کہ نیکٹا کے جاری سیکیورٹی الرٹ کی بنیاد پر کوئٹہ کا جلسہ مؤخر کریں۔
پی ڈی ایم کی قیادت نے یہ کہہ کر جلسہ ملتوی کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ حکومت ان کے جلسوں کی کامیابی سے خوف زدہ ہے۔
یاد رہے اس سے قبل حکومت بلوچستان کی طرف سے جلسے کو مؤخر کرنے کے مطالبے پر رد عمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ 25 اکتوبر کا کوئٹہ کا جلسہ مؤخر نہیں ہوگا کیونکہ حکومت بلوچستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلسے میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرے۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ اگر کچھ ہوا تو صوبائی حکومت ذمہ دار ہوگی۔
دوسری جانب کوئٹہ میں سیکیورٹی خدشات کے باعث موبائل سروس کو معطل کردیا گیا۔
اس حوالے سے صوبائی ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث سروس کو معطل کیا گیا ہے اس پر سیاست سے گریز کیا جائے۔