آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) نے پیٹرولیم ڈویژن کی ذیلی تیل اورگیس کمپنیوں میں مالی سال 19-2018 کے دوران 15 کھرب 43 ارب روپے کی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کی نشاندہی کی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن میں انتظامی کمزوریوں پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور رائلز، گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس، گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کے واجبات کی ریکوری، ریونیو رسیدوں کی کلیکشن اور جائزے کی نگرانی کیلئے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔
ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن میں ہونے والی بدعنوانیوں کے نتیجے میں ایک کھرب 46 ارب 7 کروڑ 60 لاکھ روپے کی نان ٹیکس رسیدوں کی عدم وصولی کے کیسز نوٹ کئے گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ او جی ڈی سی ایل انتظامیہ نے 1989 اور 2016 کے مابین دریافت ہونے والی 12 فیلڈز کی ترقی میں پیٹرولیم کی پیداوار عدم آغاز کے باعث تاخیر کی جس کے نتیجے میں ساڑھے 69 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا۔
آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ او جی ڈی سی ایل نے گیس کے کم پریشر کی سیل پروسیڈ کے 7 ارب 40 کروڑ روپے قومی خزانے میں نہیں جمع کروائے اور متروکہ پلانٹس کی انسٹالیشن سے ریونیو نقصانات کا سامنا کیا۔
پاکستان تحریک انصاف حکومت کے پہلے مالی سال سے متعلق آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ او جی ڈی سی ایل، پی ایس او، پی پی ایل، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے کیسز میں مالی غلطیاں دیکھی گئی ہیں۔
واضح رہے اے جی پی نے پیٹرولیم ڈویژن اور اس کی 16 پی ایس ایز کے 53 کھرب 84 ارب روپے کے مجموعی اخراجات اور 3 کھرب 47 ارب روپے کی نان ٹیکس رسیدوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نئی تعیناتیوں، دوبارہ بھرتیوں اور ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے پی ایس ایز ریگولیشنز کو مد نظر نہیں رکھ رہی تھیں، بھرتیوں کے عمل میں تضادات کے حوالے سے بطور خاص پیٹرولیم ڈویژن، او جی ڈی سی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کا ذکر کیا گیا ہے۔
اے جی پی کا کہنا تھا کہ گیس کمپنیوں نے گیس چوری کے کیسز کی پیروی نہیں کی جو ایک ارب 25 کروڑ 80 لاکھ روپے کی برابر ہے اس کے علاوہ آڈیٹرز نے تعیناتیوں کے 8 کیسز میں 39 کروڑ 10 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔