افغانستان کے شہر کابل میں یونیورسٹی پر دہشتگردوں کے حملے میں 20 افراد ہلاک اور 40 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق پیر کی صبح یونیورسٹی میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں کے بعد سیکیورٹی حکام نے یونیورسٹی کو گھیرے میں لے لیا۔
یورنیورسٹی کے دیگر کیمپسز میں موجود طلبا کو فورا یونیورسٹی سے باہر نکالا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی میں کتب میلے کے افتتاح کے دوران دہشتگروں نے حملہ کیا۔
کتب میلے کی افتتاحی تقریب میں انتظامیہ سمیت طلبا کی بڑی تعداد شامل تھی۔
حملے میں 10 طلبا کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
افغان وزارت داخلہ کے ترمان طارق آریان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تعلیم کے دشمن یونیورسٹی میں داخل ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی دستے اپنی پوزیشنز سنبھالے ہوئے ہیں اور صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طالبان کی جانب سے یونیورسٹی پر حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا گیا ہے۔
خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ماضی میں افغانستان کے مختلف شہروں میں بڑے اور اہم تعلیمی اداروں پر داعش سمیت مختلف انتہا پسند گروپ دہشگردانہ حملے کرتے رہے ہیں۔
واضح رہے گزشتہ ہفتے بھی کابل کے ایک تعلیمی ادارے پر دہشتگردوں کے حملے میں 24 افراد مارے گئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔
افغانی وزارت تعلیم کے ترجمان حامد عبیدی کا کہنا تھا مسلح افراد نے کتب میلے پر حملہ اس وقت کیا جب چند حکومتی شخصیات میلے کے افتتاح کے لیے یونیورسٹی پہنچنے والی تھیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کئی طلبا کو بحفاظت یونیورسٹی سے باہر نکال دیا گیا ہے۔
وزارت صحت کی نائب ترجمان معصومہ جعفری نے حملے کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کم از کم 8 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ زخمی ہونے والوں میں طلبا اور انتظامیہ کے افراد شامل ہیں جنہیں مقامی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔