وزیراعظم عمران خان کے پسندیدہ سمجھے جانے والے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو وزارت سے ہٹائے جانے کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کی اندرونی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاق کی سوشل میڈیا ٹیم کی شکایات فیاض الحسن چوہان کی وزارت سے محرومی کا باعث بنی ہیں۔
یاد رہے وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں فیاض چوہان کی پرفارمنس کی تعریف کرتے تھے اور ان کی مثال دوسرے وزرا کو دیتے تھے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم گزشتہ دنوں جب لاہور کے دورہ پر گئے تو وفاق کی سوشل میڈیا ٹیم نے فیاض چوہان کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے۔
سوشل میڈیا ٹیم میں فیاض چوہان کی مداخلت زیادہ ہونے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ فیاض چوہان سوشل میڈیا ٹیم میں اپنے لوگ ایڈجسٹ کرنا چاہتے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی ان کی وزارت اطلاعات سے علیحدگی کے حامی تھے اور سینئر وزرا کو بھی تحفظات تھے۔
سوشل میڈیا ٹیم نے اعتراض کیا کہ فیاض چوہان حکومت کی بجائے اپنی پروجیکشن زیادہ کرتے تھے جبکہ سیف اللہ نیازی کی جانب سے بھی ان کے خلاف شکایات کی گئیں۔
گزشتہ روز فیاض چوہان کو وزارت کے عہدے سے ہٹانے کے بعد فردوس عاشق اعوان کو وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔
فیاض الحسن کو اس سے پہلے 2019 میں بھی ہندو برادری کے خلاف توہین آمیز جملہ کہنے کی بنیاد پر وزارت سے ہٹا دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیاض چوہان کو پارٹی کے اندر سے اپنے خلاف ہونے والی سازش کا علم نہیں ہو سکا اور جب انہیں وزارت سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن ملا تو تب انہیں پس پردہ چلنے والی سرگرمی کا علم ہوا۔
فیاض چوہان اپنے دبنگ انداز بیان اور اپوزیشن کے خلاف جارحانہ رویے سے پہچانے جاتے ہیں۔