مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناءاللہ نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایاز صادق کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو بطور گواہ اجلاس کی ساری روداد عوام کے سامنے پیش کر دوں گا۔
رانا ثناءاللہ نے پارٹی رہنماؤں کے خلاف سیاسی مقدمات پر چیف جسٹس سے آف پاکستان سے نوٹس لینے کی درخواست بھی کی۔
انہوں نے مینار پاکستان لاہور میں ہونے والے جلسہ کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ حکمرانوں کو بہا کر لے جائے گا۔
نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے کئے جانے والے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اپنی بیماری اور حکمران ٹولے کا علاج کر رہے ہیں، دونوں علاج مکمل ہونے کے بعد وطن واپس آئیں گے۔
رانا ثناءاللہ نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے حکومت کے خلاف 10 لاکھ افراد اسلام آباد لانے کا دعویٰ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو غدار قرار دیتے ہیں اور نہ ہی کسی کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں۔
رانا ثناءاللہ نے انکشاف کیا کہ 120 عدالتیں اپوزیشن کو دبانے کیلئے قائم کی جائیں گی۔
خیال رہے ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے گھٹنے ٹیک کر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس بھارت بھیجا۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی کے بیان پر بھارتی میڈیا نے خوب واویلا مچایا اور بھارتی پائلٹ کی رہائی کو اپنی فتح سے تعبیر کیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے ایاز صادق کے اس متنازعہ بیان پر شدید ردعمل دیا تھا۔
بعد ازاں سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپنے متنازعہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اشارہ سول لیڈر شپ کی کمزوری کی جانب تھا جسے بھارتی میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔