آکسفورڈ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ کو کورونا سے متعلق غلط اعداد و شمار کی بنیاد پر لاک ڈاؤن میں دھکیلا گیا ہے۔
سینٹر فار ایویڈینس بیسڈ میڈیسنز کے پروفیسر کارل ہینیگن نے برطانوی وزیراعظم بورس جانس اور ان کے میڈیکل ایڈوائزر کی جانب سے کورونا سے متعلق غلط اعداد و شمار کی بنیاد پر ملک میں لاک ڈاؤن لگانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پروفیسر کارل ہینیگن نے برطانوی وزیراعظم اور ان کے مشیروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دسمبر تک ایک دن میں 2000 اموات کے خطرے کی پیش گوئی کی تھی جو بالکل غلط اعداد و شمار تھے۔
حکومت کی لاک ڈاؤن اسٹریٹجی کے ناقد پروفیسر کارل کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ ہفتوں میں ملک میں وبا کی صورتحال میں کافی حد تک تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی کیسز میں اضافہ تقریباً رک گیا ہے۔
پروفیسر کارل نے بتایا کہ ملک میں جو اموات رپورٹ ہو رہی ہیں وہ پہلے سے متاثرہ مریض ہیں، ان اموات کی شرح میں بھی بتدریج کمی ہوجائے گی۔
پروفیسر کارل کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک کے چند اہم سائنسدانوں کی جانب سے بتایا گیا کہ موسم گرما کے بعد سے کورونا کے پھیلاو میں کمی ہو گئی ہے۔
کنگز کالج لندن اکیڈیمکس کے ماہرین نے بتایا کہ برطانیہ اور انگلینڈ میں کورونا کیسز میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ماہرین کے انکشافات کے بعد برطانوی میڈیا کی طرف سے حکومت کے چیف سائنٹیفک ایڈوائزر پیٹرک ویینس اور چیف میڈیکل ایڈوائزر کرس ویٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دونوں مشیروں نے گزشتہ ہفتے پریس بریفنگ کے دوران کورونا کے غلط اعداد و شمار کی بنیاد پر لاک ڈاؤن کی حمایت کی تھی۔
برطانوی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے سائنس نے دونوں مشیروں کو لاک ڈاؤن کے حق میں دلائل دینے کے لیے طلب کر لیا ہے۔
یاد رہے 3 روز قبل برطانیہ نے کورونا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ملک بھر میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
برطانوی وزیراعظم نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ملک میں کورونا متاثرین کی بڑھتی ہوئِی تعداد اور نیشنل ہیلتھ سروسز کے ادارے پر پڑنے والے بوجھ کے پیش نظر ملک میں دوسری مرتبہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا ہے۔