امریکی صدارتی انتخابات کے لیے انتخابی عمل کا آغاز نومبر کے پہلے ہفتے سے کیا جاتا ہے جس کے بعد اگلے سال جنوری کی 20 تاریخ کو امریکہ کا نو منتخب صدر حلف اٹھاتا ہے۔
انتخابات پر نظر رکھنے والے ماہرین بتاتے ہیں کہ پولنگ کے عمل سے لے کر حلف برداری کی تقریب تک کے عرصے کو ٹرانزیشن پیریڈ یا عبوری دور کہا جاتا ہے۔
عبوری ٹائم پیریڈ میں امریکی صدر کابینہ کی تشکیل سمیت کئی اہم عہدوں پر بھرتیاں کرتا ہے۔ تاہم اگر کوئی دوسری ٹرم کے لیے بھی صدر منتخب ہو جاتا ہے تو اسے نسبتاً کم کام کرنا پڑتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق رواں سال ہونے والے انتخابات میں حلف برداری کی تقریب سے قبل صدر کو 11 ہفتوں کا وقت دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاک کے ذریعے کاسٹ کیے گئے ووٹوں کو موصول کرنے اور گنتی کرنے کے عمل سے انتخابات کے نتائج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
2000 میں ہونے والے انتخابات میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے عمل نے انتخابی نتائج میں تاخیر کی تھی جس کے بعد جارج بش کو حلف برداری سے قبل صرف 35 دن دیے گئے تھے۔
2000 میں جارج ڈبلیو بش کے مخالف امیدوار ایلگور تھے۔ انتخابات کے دوران فلوریڈا میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔
رواں برس امریکی انتخابات میں اگر صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں تو انہیں جوبائیڈن کی نسبت کم کام کرنا پڑے گا۔
جو بائیڈن صدر منتخب ہونے کے بعد کابینہ کی تشکیل سمیت کئی اہم امور سرانجام دیں گے جب کہ ٹرمپ کو اپنی انتظامیہ میں معمولی رد وبدل کرنا ہوگی۔
صدر ٹرمپ چاہیں تو اپنی موجودہ کابینہ کے ذریعے امریکہ کا انتظام سنبھال سکیں گے۔
جوبائڈن اگر صدارتی انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں محکمہ داخلہ و خارجہ سمیت دفاعی شعبے میں بھی بھرتیاں کرنی ہوں گی۔
جوبائڈن کو لگ بھگ 4 ہزار سرکاری ملازمین بھرتی کرنے کا بڑا کام بھی سرانجام دینا ہوگا۔
واضح رہے امریکی انتخابات میں اب تک کے نتائج کے مطابق برتری حاصل کرنے والے جوبائیڈن سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور میں نائب صدر رہ چکے ہیں، وہ خارجہ امور کے بھی ماہر تسلیم کئے جاتے ہیں۔