امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل ختم ہو چکا ہے جس کے بعد مرحلہ وار نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اب کے انتخابی نتائج میں جوبائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر بننے کے لیے امیدوار کو 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں جب کہ اب تک کے نتائج کے مطابق جوبائیڈن 237 الیکٹورل ووٹ لے کر آگے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن نے 237 اور ری پبلکن امیدوار امریکی صدر ٹرمپ نے 210 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔
اب تک کے نتائج میں ڈیموکریٹک امیدوار کو 19 ریاستوں میں برتری حاصل ہے جب کہ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ 16 ریاستوں کے نتائج اپنے نام کر چکے ہیں۔ 16 مزید ریاستوں سے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
جوبائیڈن نے اب تک اریزونا،نیو میکسیکو، منی سوٹا اور نیوہیمپشائرکی ریاستوں میں برتری حاصل کی ہے، ٹرمپ فلوریڈا، ٹیکساس، جارجیا، پنسلوانیا، اوہائیو اور وسکونسن میں آگے ہیں۔
جوبائڈن کو نیو یارک سے 29 الیکٹورل ووٹ پڑے ہیں جب کہ ٹرمپ نے اہم ریاست فلوریڈا کا میدان اپنے نام کیا ہے ۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ساؤتھ اور نارٹھ ڈکوٹا سے تین تین الیکٹورل ووٹ اپنے نام کیے ہیں۔ الباما کا میدان بھی ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔
ڈیموکریٹک امیدوار جوبائڈن نے اوریگن سے 7، واشنگٹن سے 12 اور کیلیفورنیا سے 55 الیکٹورل ووٹ اپنے نام کیے ہیں۔
جوبائڈن نے گزشتہ الیکشن میں ٹرمپ کے نام ہونے والی ریاست ایری زونا میں بھی میدان مار لیا ہے۔
ٹرمپ نے اوہائیو سے 18، ٹیکساس سے 38 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے، انڈیانا، نبراسکا، اوکلاہوما اور کنٹکی کی ریاستیں بھی ٹرمپ کے ہاتھ ہیں۔
واضح رہے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان سات میڈیا گروپس کے سپرد ہے، ان میڈیا گروپس کے علاوہ کسی بھی صحافی یا سیاست دان کی جانب سے اعلان کیا گیا نتیجہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
گزشتہ روز ٹویٹر نے اپنے پیغام میں درخواست کی تھی کہ منتخب میڈیا گروپس نتائج کے ٹویٹ ہونے سے قبل اپنے نتائج کا اعلان کریں۔
ٹویٹر نے کہا تھا کہ کسی اور صحافی یا میڈیا گروپ کی جانب ٹویٹر پر شیئر کیا گیا نتیجہ بلاک کر دیا جائے گا۔
گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ کی ووٹوں سے متعلق آنے والی ٹویٹ کو بھی ٹویٹر نے بلاک کر دیا تھا۔