بھارتی نیوز چینل ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اور معروف صحافی ارناب گوسوامی کو ممبئی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی پولیس نے ارناب کو ان کے گھر سے اٹھایا اور انہیں پولیس اسٹیشن لے جانے کی وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں۔
ری پبلک ٹی وی کی جانب سے ارناب گوسوامی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پولیس نے نہیں بتایا کہ آیا ارناب پر کوئی نیا کیس بنایا گیا ہے یا پرانے مقدمے کے تحت انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔
میڈیا ذرائع بتاتے ہیں کہ ارناب گوسوامی کو دو سال قبل خودکشی پر اکسانے کے الزامات کے تحت درج کیے مقدمے پر گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ارناب گوسوامی پر دو سال قبل ایک اینٹیریر ڈیزائنر کی خودکشی کے بعد کیس دائر کیا گیا تھا۔
53 سالہ ڈیزائنر خاتون نے خودکشی سے قبل اپنے خط میں لکھا کہ ارناب گوسوامی نے ری پبلک ٹی وی کی ڈیزائنگ کا معاوضہ ادا نہیں کیا تھا جس پر وہ دلبرداشتہ تھیں۔
بھارت کی قانونی اور عدالتی خبروں کے معروف خبررساں ادارے لائیو لاء کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس نے ارناب گوسوامی کو آئی پی سی کی دفعہ 306 کے تحت گرفتار کیا ہے۔
اے این پی کا کہنا ہے کہ ارناب گوسوامی نے ممبئی پولیس پر اپنے اہلخانہ سے تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کا بھی الزام لگایا ہے۔
اے این پی کے مطابق ارناب کا کہنا تھا کہ ممبئی پولیس نے گرفتار کرتے وقت ان کے گھر والوں سے بدتمیزی کی۔
بی جے پی کے وزیر پرکاش جاوڑیکر نے ارناب گوسوامی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ ایسا سلوک ایمرجنسی کے دنوں میں کیا جاتا رہا ہے۔
اپنے ٹویٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پریس کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر قانون جے شنکر پرساد یکے بعد دیگرے پوسٹ کیے جانے والے ٹویٹر پیغامات میں ارناب کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر ریلوے پیوش گوول نے بھی مہاراشٹرا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ارناب گوسوامی کی گرفتاری اس وقت بھارت میں ٹویٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں سے ایک ہے۔ مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ارناب گوسوامی کی گرفتاری پر شدید تنقید کی ہے۔
بالی ووڈ اداکارہ کنگنا راونات نے بھی صحافی کی گرفتاری پر کہا ہے کہ پو پرو کو غصہ کیوں آتا ہے؟ پینگوئنز کو غصہ کیوں آتا ہے؟ سونیا سینا کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے؟
انہوں نے ارناب گوسوامی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں اپنے بولنے کی سزاکے طور پر سر کے بال کھینچنے دیں۔ کنگنا نے لکھا کہ ابھی آزادی کا قرض چکانا ہے۔