متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کیلئے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کا باقاعدہ آغاز 26 نومبر سے ہو گا۔
یاد رہے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے شہریوں کو دونوں ممالک میں بغیر ویزہ کے سفر کی اجازت ہو گی۔
دبئی کی فضائی کمپنی فلائی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کمپنی دبئی سے براہ راست تل ابیب کیلئے ہفتے میں 14 پروازیں آپریٹ کرے گی جس کیلئے بکنگ کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب بزنس اور اکانومی کلاسوں میں کرائی جا سکتی ہے۔
کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ دبئی سے تل ابیب اور تل ابیب سے دبئی کیلئے روزانہ دو پروازیں چلائی جائیں گی جن میں ایک طرف کا سفر تقریباً 3 گھنٹے میں طے ہو گا۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ فلائی دبئی اس وقت واحد کمپنی ہے جس نے دبئی سے اسرائیل کیلئے براہ راست کمرشل پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے بعد گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان ایئر ٹرانسپورٹیشن معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات سے تل ابیب کیلئے براہ راست 28 پروازیں چلائی جائیں گی۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے بعد گزشتہ ماہ 19 اکتوبر کو پہلی مرتبہ مسافر پرواز یو اے ای سے اسرائیل پہنچی تھی۔
واضح رہے متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کئے جانے کے بعد پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی طرف سے ردعمل آیا سامنے آیا تھا۔
اس حوالے سے پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ فلسطین کے حقوق میں ان کی خود مختاری کا حق شامل ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پاکستان کی اہم ترجیح ہے۔