پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی رمیض راجہ نے پاکستان اور زمبابوے کے مابین کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میچ میں گرین شرٹس کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
معروف کمینٹیٹر نے گزشتہ روز تیسرے ون ڈے میچ کے سپر اوور کے دوران پاکستان کی حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے یو ٹیوب چینل پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ سپر اوور کے دوران کھلاڑیوں کے انتخاب میں غلطی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم نے اپنی اننگ کے دوران شاندار سنچری اسکور کی، سپر اوور کے لیے بابراعظم کو میدان میں لایا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے سپر اوور میں حصہ لینے والے تینوں کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ فخر زمان نے گزشتہ دو میچوں میں حصہ نہیں لیا تھا اور وہ پراعتماد نظر نہیں آرہے تھے۔
سابق کھلاڑی کا کہنا تھا کہ افتخار مڈل آرڈر بلے باز ہے اور اس نے اپنے گزشتہ میچ میں کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جب کہ خوش دل شاہ بھی اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تیسرا ون ڈے میچ ٹائی کرنا اور سپر اوور میں ناکام رہنا پاکستان کرکٹ کے پورے نظام کے لیے صدمہ ہے۔
انہوں نے بتایا میچ کے دوران سامنے لائے گئے نئے کھلاڑیوں میں مشکل وقت سے نمٹنے کا ٹیلنٹ نہیں نظر آیا۔
یاد رہے گزشتہ پاکستان اور زمبابوے کے مابین کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میچ میں مہمان ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں 278 رنز بنائے تھے۔
279 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم نے مقررہ اوورز میں 278 رنز بنا کر میچ ٹائی کر دیا۔
بعد ازاں میچ کا فیصلہ سپر اوور کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپر اوور کا آغاز ہوا تو پاکستان کی جانب سے فخر زمان اور افتخار احمد میدان میں آئے۔
افتخار احمد سپر اوور کی پہلی گیند پر آوٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ ان کے بعد خوش دل شاہ فخز زمان کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آئے۔ دونوں کھلاڑی پانچ گیندوں پر صرف دو رنز بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
زمبابوے نے تین رنز کا ہدف اوور کی تیسری گیند پر حاصل کر لیا۔