ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر میں شدت آتی جا رہی ہے، فعال کیسز 14 ہزار سے بڑھ گئے ہیں جبکہ اموات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس وبا سے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں ہیں، روزانہ کئی اداروں کو کورونا کیسز سامنے آنے پر بند کیا جا رہا ہے۔
اس وجہ سے حکومت اب سردیوں کی چھٹیاں نومبر کے دوسرے ہفتے سے دینے پر غور کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اس حوالے سے آئندہ دو روز میں فیصلہ کریں گے، غالب امکان یہی ہے کہ اگلے ہفتے سے اسکول اور کالج میں سردیوں کی چھٹیوں کا اعلان ہو جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں سے متعلق مشاورت کی گئی ہے۔
وفاق نے صوبے میں تعلیمی ادارے دسمبر کے بجائے نومبر میں بند کرنے کی سفارش کی تھی۔
اس سے قبل بھی ملک بھر میں تعلیمی ادارے کئی ماہ تک بند رہے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم کا بہت حرج ہو چکا ہے۔
بہت سے اداروں نے آن لائن کلاسز کے ذریعے یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاہم طلبہ کی ایک بڑی اکثریت انٹرنیٹ کی عدم موجودگی یا سست رفتار نیٹ ورک کی وجہ سے اس سہولت سے محروم رہے ہیں۔
دوسری جانب کورونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک سب سے بڑا اجتماع تعلیمی اداروں کا سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ بچے اور نوجوان کورونا وائرس کے خلاف مضبوط قوت مدافعت رکھتے ہیں مگر وہ اس وبا کو اپنے گھر میں پھیلا سکتے ہیں جہاں بڑی عمر کے افراد کے لیے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔