تیل کی خریدوفروخت کا کام کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی سعودی آرامکو کو رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں 44.2 ارب ریال کا منافع حاصل ہوا۔
سعودی میڈیا کے مطابق یہ منافع رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں 44.6 فیصد کم تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سال 2019 کی تیسری سہ ماہی میں سعودی آرامکو کو 79.8 ارب ریال کا منافع ہوا تھا۔
دوسری جانب رواں سال کی تیسری سہ ماہی کا منافع دوسری سہ ماہی سے 79.6 فیصد زیادہ رہا جو کورونا کے اثرات کے بعد کمپنی کے لیے ایک اچھی خبر بھی ہے۔
آرامکو کے مطابق دوسری سہ ماہی میں کمپنی کو صرف 24.6 ارب ریال کا منافع حاصل ہوا تھا۔
کمپنی کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں کمپنی کو 131.3 ارب ریال کا منافع ہوا۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ابتدائی 9 ماہ کا یہ منافع گزشتہ سال کے نو ماہ کے مقابلے میں 48.6 فیصد کم تھا۔
گزشتہ سال کمپنی کو نو ماہ کے دوران 255.7 ارب ریال کا منافع ہوا تھا۔
واضح رہے گزشتہ سال کے اواخر میں پھوٹنے والی کورونا وبا نے جہاں دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں ہنگامی حالات پیدا کیے وہیں دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کا پہیہ بھی رک کر رہ گیا۔
تیل کی پیداوار اور فروخت کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور عرب ریاستیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔
خام تیل کی قیمتوں اور اس کی فروخت میں کمی سے آئل کمپنیوں کو خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
آئل ریفائننگ اور کیمیکلز کے کاروبار میں منافع نا ہونے کے باعث کمپنیوں کو اپنے ہزاروں ملازمین کو گھر بٹھانا پڑا۔
عرب ممالک کی معیشتوں کے لیے بنیادی ضرورت سمجھے جانے والے تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں گر رہی ہیں۔