سینیٹ پلاننگ کمیٹی کے اجلاس میں نیلم جہلم سرچارج کے معاملے پر سینیٹرز حکام پر پھٹ پڑے۔
سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف نے کہا کہ نیلم جہلم سرچارج ابھی تک وصول کیا جا رہا ہے جو عوام پر ظلم ہے۔
چیئرمین کمیٹی آغا شاہزیب درانی نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی بہت زیادہ ہے، نیلم جہلم سرچارج وصول کرنا نا انصافی ہے۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود سرچاج کیوں وصول کیا جا رہا ہے؟
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ نیلم جہلم سرچاج کی مد میں 4.7 ارب روپے جمع ہو چکے ہیں، سالانہ 6 ارب روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ اس رقم کو دوسرے منصوبوں پر منتقل کرنے کی سمری ای سی سی میں موجود ہے۔
چیئرمین کمیٹی آغا شاہزیب درانی نے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت نیلم جہلم سرچارج وصول کیا جا رہا ہے؟ کمیٹی کو حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ پراجیکٹ 100فیصد مکمل نہیں ہوا ہے۔
آغا شاہزیب درانی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پراجیکٹ سے پیسے تو مل رہے ہیں۔ جس پر حکام نے بتایا کہ ابھی عارضی ٹیرف ملا ہے، یہ کافی مہنگا منصوبہ ہے۔
ارکان کمیٹی نے کہا کہ اگر مہنگا پراجیکٹ ہے تو پھر آپ عوام سے وصولی کرتے رہیں گے؟ چیئرمین کمیٹی آغا شاہزیب درانی نے کہا کہ عوام پہلے سے ہی پِس رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ وزارت کا ہے، وزارت تقسیم ہوئی مگر عوام کیوں ادائیگی کریں۔
سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ عوام غلام ہیں، آقا کا حکم مانیں۔ سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف نے کہا کہ عوام ابھی تک جگا ٹیکس دے رہی ہے۔
سینیٹ پلاننگ کمیٹی نے سرچارج لگانے کے حوالے سے تفصیلات طلب کر لیں