آسٹریا کے شہر ویانا کے وسطی علاقے میں ہونے والے دہشتگرد حملے میں ایک حملہ آور سمیت 3 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
حملہ آوروں نے یہودی عبادت گاہ کے قریب فائرنگ کی جبکہ کچھ دہشتگردوں کی ویانا کے ہوٹل میں موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں۔
آسٹریا کے وزیرداخلہ کے مطابق مارا جانے والا حملہ آور داعش سے ہمدردی رکھتا تھا۔
بعض اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں کی تعداد 10 تھی جنہوں نے 6 مختلف مقامات پر حملے کئے۔
اس واقعے کے بعد آسٹریا حکام نے ویانا میں فوج طلب کر لی ہے اور اسکول بند کر دیے ہیں۔
ویانا کے میئر مائیکل لدویگ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ زخمیوں میں شامل ایک خاتون بھی ہلاک ہو گئی ہے جبکہ 15 افراد کو ہسپتال لے جایا گیا ہے جن میں سے 7 افراد شدید زخمی ہیں۔
آسڑیا کے چانسلر سیبا سٹیئن کرز نے واقعہ کو ایک گھناؤنا دہشتگرد حملہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنی جمہوریت کے مشکل وقت کا سامنا کر رہے ہیں۔
چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کبھی دہشتگردی سے نہیں ڈرایا جا سکتا اور ہم ہر طرح سے اس حملے کا مقابلہ کریں گے۔
فرانسیسی صدر نے ٹویٹ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ویانا میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد یورپ دہشتگردوں کے آگے نہیں جھکے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویانا میں فائرنگ کو شیطانی حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام کیلئے کہا ہے۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ٹوئیٹ کیا کہ ہم آپ کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں۔