سینئر صحافی اور ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا نے اپنے نئے وی لاگ میں بتایا ہے کہ فردوس عاشق اعوان کی اقتدار کی راہداریوں میں واپسی کا سارا عمل اسقدر خفیہ رکھا گیا ہے کہ صرف 3 افراد اس کے متعلق جانتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اسے خفیہ رکھنے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کو بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں وزارت کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے عمران خان اور فردوس عاشق اعوان رابطے میں تھے، وزیراعظم ہاؤس کے بجائے انہیں بنی گالہ میں بلایا گیا تاکہ ملاقات کی خبر باہر نہ آئے۔
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے ترجمانوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، انہوں نے گزشتہ دنوں ایک کابینہ میٹنگ میں بھی کہا ہے کہ وزرا میڈیا پر حکومت کی درست ترجمانی نہیں کر رہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق وزیراعظم کا خیال ہے کہ ٹی وی اسکرین پر مخالفین کا بیانیہ چھا رہا ہے، حکومت کی کارکردگی اور اچھے کام بھی عوام کو سامنے نہیں آ رہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے جو آخری ٹی وی انٹرویو دیا تھا اس میں انہوں نے بہت سخت باتیں کی تھیں اور حکومتی ترجمانوں اور وزرا کو بھی نے کہہ دیا تھا کہ یہ انٹرویو دیکھیں اور اس طرح کا جارحانہ انداز اختیار کریں۔
فردوس عاشق کو کیوں ہٹایا گیا تھا؟
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ فردوس عاشق اعوان کو اس وجہ سے ہٹایا گیا تھا کہ ان سے بیوروکریسی کو بھی شکایتیں تھیں اور دیگر وزرا بھی خوش نہیں تھے۔ ان کے خلاف وزیراعظم کے کان بھرے گئے کہ وہ بہت پیسے بنا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آخرکار وزیراعظم نے اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان فردوس عاشق اعوان سے استعفیٰ لینے کا کہہ دیا اور جب انہیں بلا کر مستعفی ہونے کا کہا گیا تو فردوس عاشق اور اعظم خان میں تلخ کلامی ہو گئی تھی۔
رؤف کلاسرا کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا جس کے بعد انہیں وزارت سے ہٹا دیا گیا اور ان کے خلاف کرپشن کی خبریں چلوائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ فردوس عاشق اعوان نے بھی جواب میں ٹی وی پر آ کر کھل کر جواب دیا جس کے بعد انہیں کہا گیا کہ 3 ماہ تک خاموش رہیں اور اپنے حلقے میں کام کرتی رہیں، اس کے بعد انہیں ایڈجسٹ کر لیا جائے گا۔
ملاقات کی کہانی
رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ ملاقات میں فردوس عاشق اعوان نے گلے شکوے کیے کہ وزیراعظم کی ٹیم نے زیادتی کی، ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، دھمکیاں دی گئیں۔
سینئر صحافی کے مطابق وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے، انہیں جو باتیں فردوس عاشق اعوان کے متعلق بتائی گئیں وہ درست نہیں تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب وزیراعظم نے فردوس عاشق کو کہا کہ وہ پنجاب میں جا کر مشیر اطلاعات کا عہدہ سنبھالیں تو انہوں نے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاق میں کام کرنے کے بعد اب صوبے میں جا کر اسی عہدے پر کام کرنا اچھا نہیں لگے گا۔
رؤف کلاسرا کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ایک بڑی لڑائی لڑی جا رہی ہے، وہاں آپ کی زیادہ ضرورت ہے۔
سینئر صحافی نے بتایا کہ عمران خان کو لگتا ہے کہ پنجاب میں مریم نواز کا سیاسی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، میڈیا میں بھی انہوں نے اپنے تعلقات بڑھائے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے فردوس عاشق اعوان جیسی دبنگ خاتون کی ضرورت ہے۔
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ عمران خان نے فردوس عاشق اعوان کو فری ہینڈ دیا ہے کہ جیسے مناسب سمجھیں، اسی طرح کام کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خواتین عمران خان کے متعلق بہت سخت زبان استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے فردوس عاشق اعوان کی صورت میں ایک سخت زبان استعمال کرنے والی خاتون کی ضرورت ہے۔
رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے انہیں یقین دلایا ہے کہ کچھ عرصہ وہ پنجاب حکومت میں کام کر لیں، بعد میں انہیں وفاق میں کوئی اہم عہدہ دیا جائے گا۔