آئرلینڈ میں ایک ہی پرواز سے 59 کورونا کے نئے کیسز کا انکشاف ہونے کے بعد فضائی سفر کو غیر محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔
ماہرین صحت نے کرسمس کے موقع پر مسافروں کو ہوائی سفر سے روکنے کے لیے ان 59 کیسز کا حوالہ دیا جو ایک ہی فلائیٹ کے مسافر تھے۔
آئرلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ٹونی ہولوہان کا کہنا ہے کہ ملک سے باہر غیر ضروری طور پر سفر نا کریں تاکہ ممکنہ خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
یورپ سے متعلق خبریں شائع کرنے والے میڈیکل جرنل یورو سرویلینس کے مطابق کرسمس کے موقع پر حکومتی انتظامیہ ہوائی سفر نا کرنے کی ہدایات بھی جاری کر سکتی ہے۔
اس سے قبل یورو سرویلینس کی جانب سے ہوائی سفر کو محفوظ سفر قرار دیا گیا تھا۔
واضح رہے موسم گرما کے دوران ہوائی سفر کے دوران کورونا کا شکار ہونے والے 59 مسافروں کے سفر کا جائزہ لیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سارے مسافر ایک ہی فلائیٹ سے آئے تھے۔
دوسری جانب آئرلینڈ جانے والی ایک پرواز کے 13 مسافروں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 283 نشستوں والے طیارے میں صرف عملے سمیت 61 افراد نے سفر کیا تھا۔
مسافروں کے درمیان خاصا فاصلہ ہونے کے باوجود 13 مسافر مہلک وائرس کا شکار ہوئے۔
اس مسافروں نے فلائیٹ سے قبل بھی کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر گزارے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ کورونا کے کیسز ہوائی سفر کے دوران سامنے آتے ہیں یا اس سے قبل ایئرپورٹ جیسی پرہجوم جگہوں پر مسافروں کی بےاحتیاطی وبا کے پھیلنے کا باعث بنتی ہے۔
یاد رہے رواں برس کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر جہاں عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کیا گیا وہیں فضائی کمپنیوں نے بھی اپنے طیارے گراؤنڈ کر دیے تھے۔
لاک ڈاؤن کے باعث جہاں عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا وہیں فضائی کمپنیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔
موسم گرما کے اختتام پر کورونا کیسز میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی فضائی کمپنیوں نے اپنے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے پہلے ڈومیسٹک فلائیٹس اور بعد میں بین الاقوامی فلائیٹس کی اجازت بھی دے دی تھی۔