امریکہ میں صدارتی انتخابات کی گہما گہمی عروج پر ہے، صدراتی امیدوار کا انتخاب کل ہونے جا رہا ہے جس کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیمو کریٹک امیدوار جوبائیڈن کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
کل 3 نومبر کو انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد معلوم سکے گا کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین کون ہو گا؟
واضح رہے امریکہ میں ابتدائی ووٹ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جس میں صدارتی امیدوار جوبائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں 7 ریاستوں میں برتری حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن کو فلوریڈا، پنسلوانیہ، مشی گن اور شمالی کیرولائینا میں ٹرمپ کے مقابلے میں برتری حاصل ہے، برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق جوبائیڈن مجموعی طورپر 43 فیصد کے مقابلے میں 51 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔
امریکی صدارتی امیداور ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کے نتائج سے پہلے ہی قانونی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی انتخابات مکمل ہوں گے اسی رات ہم اپنے وکلا سے رابطہ کریں گے۔
واضح رہے امریکی انتخابات میں اب تک کے نتائج کے مطابق برتری حاصل کرنے والے جوبائیڈن سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور میں نائب صدر رہ چکے ہیں، وہ خارجہ امور کے بھی ماہر تسلیم کئے جاتے ہیں۔
امریکہ میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ ناسا کے ایک خلا نورد نے کرہ ارض پر نہ ہونے کے باعث خلا سے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔
یاد رہے خلا باز کیٹ روبنز نے ووٹ کو ایک فریضہ قرار دیتے ہوئے 22 اکتوبر کو انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے اپنا ووٹ کاسٹ کیا تھا، اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ ہم خلا سے ووٹ کاسٹ کرنا خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔
اندازوں کے مطابق موجودہ انتخابات نیں امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ووٹر ٹرن آؤٹ سامنے آنے کی توقع ہے۔