ہالی ووڈ اداکار جونی ڈیپ برطانوی عدالت میں دائر کیا گیا ہتک عزت کا مقدمہ ہار گئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق عدالت نے اخبار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اخبار نے شائع کی گئی خبروں کے شواہد فراہم کر دیے ہیں۔
57 سالہ اداکار نے دی سن میں اپنے خلاف شائع کیے مضمون کے بعد ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے برطانوی اخبار دی سن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اداکار جونی ڈیپ نے اپنی اہلیہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔
اداکار نے خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اہلیہ پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔
رواں سال جولائی میں عدالت کی جانب سے باقاعدہ سماعتوں کا آغاز کیا گیا تھا۔
اپنے بیانات میں اداکار نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی کسی خاتون کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔
جونی ڈیپ نے 14 جولائی تک عدالت میں بیانات ریکارڈ کرائے جس کے بعد ان کی اہلیہ نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے اور اداکار پر سنگین الزامات لگائے۔
اداکار کی اہلیہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں مختلف مواقع پر 14 مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جونی ڈیپ نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔
رواں سال 28 جولائی کو دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے عدالت نے کہا تھا کہ کیس کا فیصلہ 2 نومبر کو سنایا جائے گا۔
2 نومبر کو جاری کیے فیصلے سے متعلق عدالت نے ریمارکس دیے کہ اداکار عدالت میں اپنے دلائل کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
لندن ہائی کورٹ کے جج اینڈریو نکولس نے اداکار کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اخبار کے حق میں دلائل دیے اور کہا کہ اخبار کی قانونی ٹیم نے اپنی خبروں کی حق میں شواہد فراہم کیے ہیں۔
جونی ڈیپ کی اہلیہ کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ہمیں امید تھی کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔
واضح رہے ایک دوسرے مقدمے میں جونی ڈیپ نے سابق اہلیہ امبر ہرڈ کے خلاف 5 کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے مقدمے کی سماعت رواں مہینے ہی شروع کی جائے گی۔
یاد رہے جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ نے 2015 میں شادی کی تھی اور دونوں کی عمر میں 23 سال کا فرق ہے۔ دونوں کی شادی صرف 2 سال بعد ہی طلاق پر منتج ہوئی۔