کولمبو: سری لنکا کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی اسمگلنگ کا انوکھا کیس سامنے آنے کے بعد چھان بین شروع کر دی ہے۔
آسٹریلوی خبررساں ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ سری لنکا سے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا اسمگل کیا جاتا ہے اور 10 ہزار ڈالر ادا کرنے والے کھلاڑیوں کو پناہ گزینوں کی طرح رکھا جاتا ہے۔
خبررساں ادارے کے مطابق کھلاڑیوں کو میلبورن رکھا جاتا ہے۔
اسمگل کیے جانے والے ایک کھلاڑی نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پہ بتایا کہ انہوں نے کنڈاگے نامی اسپورٹس ایجنٹ سے 10 ہزار ڈالر کے عوض آسٹریلیا کا ویزہ حاصل کیا تھا۔
کھلاڑی نے بتایا کہ انہوں نے ویزہ حاصل کرنے سے قبل صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میلبورن میں مجھے 3 کمروں پر مشتمل گھر میں ٹھہرایا گیا جہاں 16 افراد رہ رہے تھے۔
کھلاڑی نے بتایا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ہم پناہ گزینوں کے کیمپ میں رہ رہے ہیں۔
گنڈاگے نامی ایجنٹ کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ وہ جعلی پروفائل بنا کر کھلاڑیوں کے ویزے لگواتا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ ایجنٹ گزشتہ سال سے اب تک 70 کھلاڑیوں کو آسٹریلیا لے کر گیا تھا۔
آسٹریلیا کے سیکیورٹی حکام نے سری لنکن کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے میں بورڈ کے ملازمین کے ملوث ہونے کے امکانات کو مدنظر رکھ کر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سری لنکا کرکٹ بورڈ کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔